تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

minnat wali janwar me qurbani ka hissa de sakte hain ya nahi?? ----- منت والی جانور میں قربانی کا حصہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟؟؟

0

minnat wali janwar me qurbani ka hissa de sakte hain ya nahi


منت والی جانور میں قربانی کا حصہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟؟؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ" ہندہ نے یہ کہی کہ اگر میرا جانور بیماری سے ٹھیک ہو جائے گا تو ہم اس جانور کی قربانی دینگے" اور اللہ کے فضل سے وہ جانور ٹھیک ہو جاتا ہے تو اس مسئلے کی کیا نوعیت ہوگی
(۱)
 کیا ہندہ کو اختیار ہے کہ وہ جس کے نام سے چاہے قربانی دے
(۲)
 نیز کیا اس جانور میں سات (۷) لوگوں کی شرکت ہو سکتی ہے
مدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی

مستفتی: مولانا نسیم صاحب ناوا چھترپور🔸12-07-20
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں جب شرط پائی جائے تو اس جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے اور اس میں دوسرے لوگوں کو شریک کرنا جائز نہیں۔اور اسکے گوشت کو فقراء و مساکین پر تقسیم کردے نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ 

تنویرالابصار در مختار مع ردالمحتار میں ہے: (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) أي لزمه الوفاء به، والمراد انه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. لحديث " من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي" ترجمہ: جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس میں سے واجب اور جس شرط کے ساتھ اس نے معلق کیا تھا وہ پائی گئی تو نذر ماننے والے پر اس کو پورا کرنا لازم ہو جائے گا۔ مراد ہوگا کہ قربت کی اصل کی وفا لازم ہوگی جس قربت کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے : جس نے نذر مانی اور اس کا ذکر کیا تو اس نے جس امر کا ذکر کیا تو اس پر اس کی وفا لازم ہوگی۔ (ملخصا ج 5 کتاب الایمان صفحہ 516/515)۔  

تبیین الحقائق میں ہے: و ان وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن  يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنيا سواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء ۔( ج 6كتاب الاضحية صفحہ 8)

وﷲ تعالی اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دارالافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال
*22/ ذی القعدہ 1441ھ*
*14/ جولائی 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad