السلام علیکم ورحمتہ اللہْ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام زید کی بیٹی پیدا ہوئی جو مری ہوئی تھی۔۔ تو کیا اس کا غسل و کفن اور نماز جنازہ پڑھی جاۓ گی۔۔ نیز نام رکھا جاۓ گا یا نہیں؟
اور کیا یہ بات صحیح ہے کہ نومولود بچہ کل قیامت کے دن اپنے ماں باپ کیلئے سفارشی بنے گیں؟
قرآن و حدیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔۔ نوازش ہوگی۔
سائل؛ حسن امام پٹنہ بہار
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں جب بچی مری ہوئی پیدا ہوئی تو اسکو ویسے ہی نہلا کرایک کپڑے میں لپیٹ کردفن کردیں اس کے لیے غسل وکفن بطریق مسنون نہیں اور نماز بھی اسکی نہیں پڑھی جائے گی اور اسکا نام رکھنے کی حاجت نہیں بغیر نام رکھےدفن کر دیں بعد میں نام رکھ دیں۔
درمختار مع ردالمحتار میں ہے : ومن استهل صلى عليه وإلا لا حتى لو خرج رأسه فقط و هو يصيح ثم مات لم يرث ولم يصل عليه مالم يخرج اكثر بدنه حيا۔اسی میں ہے: ومن لم يراهق أن كفن في واحد جاز والسقط يلف ولا يكفن.( ملخصا ج3 باب جنازۃ الصلاۃ مطلب مھم اذاقال الخ صفحہ 129/130)۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وان مات حال ولادته فإن كان خرج اكثره صلى عليه وإن كان اقله لم يصل عليه۔ ترجمہ: اگر بچہ پیدا ہوتے وقت مر گیا تو اگر نصف سے زیادہ خارج ہوگیا تھا تو اس پر نماز پڑھیں اور نصف سے کم خارج ہوا تھا تو اس پر نماز نہ پڑھیں( ج1 الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت صفحہ 163)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: اور جو بچہ مردہ پیدا ہوا یا کچا گرگیا اسے بہر طور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دینا چاہیےکفن نہ دیں ( جلد 9 صفحہ 100)۔
بہار شریعت جلد اول میں ہے: مسلمان مرد یا عورت کا بچہ زندہ پیدا ہوا یعنی اکثر حصہ باہر ہونے کے وقت زندہ تھا پھر مر گیا تو اس کو غسل و کفن دیں گے اور اس کی نماز پڑھیں گے ورنہ اسے ویسے ہی نہلاکر ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں گے اس کے لیے غسل وکفن بطریق مسنون نہیں اورنماز بھی اس کی نہیں پڑھی جائے گی یہاں تک کہ سر جب باہر ہوا تھا اس وقت چیختا تھا مگر اکثر حصہ نکلنے سے پیشترمر گیاتو نماز نہ پڑھی جائے اکثر کی مقدار یہ ہے کہ سر کی جانب سے ہو تو سینہ تک اکثر ہے اور پاؤں کی جانب سے ہو تو کمر تک( صفحہ نمبر 841)۔
ہاں نومولود بچہ زندہ پیدا ہو یا مردہ اسکی خلقت تمام ہو یا نا تمام بہرحال اس کا نام رکھا جائے اور قیامت کے دن اس کا حشر ہوگاسنن ابی داؤد میں ہے:انكم تدعون يوم القيامة بأسماء كم و اسماء اٰبئكم فاحسنوا اسماءكم ۔ ترجمہ : بے شک تم روز قیامت اپنے اور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤگے اپنے اچھے نام رکھو۔ (ج2 کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء 320)۔
الادب المفرد میں ہے : عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من مات له ثلاثة لم يبلغواالحنت ادخله الله واياهم بفضل رحمته الجنة۔( باب فضل من مات لہ الولد صفحہ176)اس حدیث کے تحت محدثین کرام تحریر فرماتے ہیں : نابالغ بچے معصوم ہوتے ہیں اور وہ بخشےاور بخشائےہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انکی سفارش کے عوض ان کے والدین کو جنت عطا فرمائے گا (ملخصا مرقات )۔
هذا ما ظهر لي والعلم عند الله
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*12/ ذی القعدہ 1440ھ*
*16/ جولائی 20019ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰==
