السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں افطاری کرنا از روئے شرع کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
المستفتی: محمد عبداللہ
___________________
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں مسجد میں کھانا ، پینا، سونا سب جائز ہے جبکہ اعتکاف کی نیت کرے۔
ردالمختار میں ہے: "اذا اراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوي أو يصلي ثم يفعل ما شاء" ترجمہ: جب ارادہ کرے کھانے پینے کا تو اعتکاف کی نیت کرے پھر مسجد میں داخل ہو جائے پس اللہ تعالی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے پھر وہاں جو چاہے کرے
( ج 3 کتاب الصوم باب الاعتکاف صفحہ 440)
لیکن اس وقت ناجائز ہے جب کہ مسجد میں کھانے پینے سے مسجد چوپال ہو جائے گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی اور جس سے اسکی تلویث ہو مطلقاً ناجائز ہے اگر چہ معتکف ہو
ردالمحتار میں ہے: "الظاهر ان مثل النوم الاكل والشرب اذا لم يشغل المسجد ولم يلوثه لان تنظيفه واجب كما مر" ترجمہ: ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیساکہ گزرا
(ج 3کتاب الصوم باب الاعتکاف صفحہ441)
فتاوی رضویہ میں ہے: مسجد میں ایسا اکل و شرب جس سے اسکی تلویث ہو مطلقاً ناجائز ہے اگر چہ معتکف ہو
( جلد 8 صفحہ 94)
لہذا اگر مسجد میں ان تمام باتیں نہ پائی جائے تو معتکف کو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
_____________________
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی ،خادم سعدی دار الافتا،متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ، اتر دیناجپور بنگال
*18/ ذی الحجہ 1440 ھ
16/ اگست 2019ء *
https://wa.me/+918793969359