السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عزام کہ قاضیِ شہر کے بیٹے کی چہرے پر داڑھی نہیں ہے ۔تو کیا وہ نکاح پڑاسکتے ہیں جبکے انکو شرائط نکاح معلوم ہے لیکن ان کے چہرے پر داڑھی نہیں ہے ۔ تو قاضی صاحب نکاح پڑاسکتے ہیں معقول جواب عنایت فرمائیں
سائل : سید محسن رفاقتی چشتی بھساول مہاراشٹرا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : ہاں اگر قاضی شہر کے بیٹے کے چہرے پر ابھی داڑھی آئی نہیں ہے یا ایک مشت سے کم رکھتا ہے پھر بھی نکاح پڑھا سکتا ہے کیونکہ نکاح خواں کا مسلمان ہونا یا عادل ہونا شرع مطہر میں کوئی چیز نہیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اگر چہ نکاح خواں شرع مطہر میں کوئی چیز نہیں، اگر کوئی ہند ومشرک زوجین کو ایجاب و قبول روبروئے گواہان کرادے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔
( جلد 11 صفحہ 219 جدید رضا اکیڈمی ممبئی )
واللہ اعلم سبحانہ وتعالیٰ ورسولہ اعلم ﷺ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور بنگال۔
۲۴ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۷ جون ٠٢٠٢ء بروز بدھ
*رابطہ* https://wa.me/+918793969359
