تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

نماز میں امام صاحب آمین آواز سے بول سکتے ہیں یا نہیں؟

0

نماز  میں امام صاحب آمین آواز سے بول سکتے ہیں یا نہیں؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ  نماز  میں امام صاحب آمین آواز سے بول سکتے ہیں

سائل : محمد افضل حسین  
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
ڑوعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
ولا الضالين کے بعد امام اور مقتدی کو آمین کہنا سنت ہے آہستہ سے، لیکن امام کا آمین بآوازِ بلند کہنا نماز میں مکروہ خلاف سنت ہے ( مکروہ تنزیہی ) ہاں اگر زبان سے نکل جائے تب بھی آمین سے سجدہ سہو واجب نہیں۔۔

قرآن مجید میں ہے: اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً. ترجمہ: تم اپنے رب کو عاجزی اور تواضع سے آہستہ آہستہ پکارو۔ ( سورہ اعراف آیت 55)سنن نسائی میں ہے : عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين سورة الفاتحة آية،فقولوا: آمين فإن الملائكة تقول آمين وإن الإمام يقول آمين فمن وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه". ( کتاب الافتتاح، باب جہر الامام بآمین )۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے : نماز کی ہر رکعت میں امام و منفرد کو ولا الضالین کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ جہری نماز میں مقتدی بھی ہر رکعت میں کہیں اور غیر جہری رکعت یا سری نماز میں ولا الضالین ایسی خفی آواز میں کہا کہ اس کے کان تک پہنچی تو اس وقت بھی یہ آمین کہے ورنہ نہیں اور آمین سے سجدہ سہو کسی وقت نہیں( جلد 6 صفحہ 202)۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*20/ ربیع الاول 1442ھ*
*7/ نومبر 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad