رقم الفتوی : 730
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال پوچھنا یہ تھا حضرت
کیا اسلام میں کسی چیز کی گارنٹی دینا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کیسے؟
حضرت جواب عنایت فرمائیں۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : خرید وفروخت کرتے وقت گارنٹی وارنٹی کی شرط لگانا معروف ہونے کی بنا پر شرعاً جائز ہے۔جب کسی پروڈکٹ کی خرید و فروخت کرتے وقت گارنٹی وارنٹی کی شرط لگا دی اور کسٹمر وارنٹی میں بیان کی جانے والی شرائط کے مطابق مدت کے اندر وارنٹی کلیم کرے تو بیچنے والے پر وارنٹی کی شرائط کے ساتھ اس کلیم کو قبول کرنا شرعاً لازم ہوگا۔جب خرید و فروخت میں کسی شرط پر عرف جاری ہو جائے تو بیع فاسد نہیں ہو گی۔جس شرط سے بیع فاسد ہوتی ہے، اس پر عرف نہ ہونا شرط ہے۔در مختار میں ہے : اما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، او ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد“یعنی: بیع میں اگر کسی شرط پر عرف جاری ہو جائے جیسے جوتے میں تسمہ لگانے کی شرط کے ساتھ بیع یا شریعت میں اس شرط کا جواز آیا ہو تو بیع فاسد نہیں ہو گی۔(درمختار مع ردالمحتار،جلد 5،صفحہ 85)۔مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:”البيع بشرط متعارف يعنی المرعی فی عرف البلدۃ صحيح والشرط معتبر۔۔۔ ويلزم على البائع الوفاء بهذه الشروط“یعنی: شرطِ متعارف یعنی ایسی شرط جس کی اس شہر کے عرف میں رعایت کی جاتی ہو اس کے ساتھ بیع درست ہے، اور شرط معتبر ہے ، نیز بائع پر اس شرط کو پورا کرنا لازم ہے۔(المجلۃ الاحکام العدلیہ ،صفحہ39)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : اور بیع میں شرط افساد با شرط عدمِ تعارفِ شرط ہے۔(جلد 19، صفحہ 578)۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے : وہ شرط ایسی ہے جس پر مسلمانوں کا عام طور پرعمل درآمد ہے جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی سال دوسال کی ہوا کرتی ہے کہ اس مدت میں خراب ہوگی تو درستی کا ذمہ دار بائع ہے ایسی شرط بھی جائز ہے۔(بیع کا بیان،صفحہ701)
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
16/ ربیع الاخر 1448ھ
28 / ستمبر 2026ء
