رقم الفتوی : 727
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس کے بارے میں کہ
پٹاخہ پھوڑنا، آتشبازی کرناجائز ہے یا نہیں؟
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
سائل: بندئہ خدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : پٹاخے پھوڑنا چھوڑنا، آتشبازی کرنا ایک لغو کام ہے اور مال کا ضائع کرنا ہے یہ یقینا فضول خرچی ہے۔ جو ناجائز و گناہ ہے، قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)﴾(پ15،بنی اسراءیل:26-27)(ترجمۂ کنزالایمان: اور فضول نہ اڑا، بیشک اُڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے ) شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)۔فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت سے آتشبازی بنانا اور چھوڑنا حرام ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں سوال ہوا تو اعلی حضرت اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ممنوع وگناہ ہے: لقولہ تعالٰی :(ولا تبذر تبذیرا ) ولقولہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل لھو المسلم حرام الاثلثا کیونکہ اللہ تعالٰی کا قول ہے بے جاخرچ نہ کیا کرو اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے مسلمان کا ہر لہو حرام ہے سوائے تین کے۔“(جلد 32/ صفحہ 290)۔ دوسری جگہ ہے: آتش بازی جس طرح شادیوں اور شبِ براءت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جُرم ہے کہ اس میں تضییعِ مال(مال کو ضائع کرنا) ہے،(جلد 32/ صفحہ 279)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
17/ ربیع الاخر 1448ھ
29 / ستمبر 2026ء
