مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ گزارش یہ ہے کہ میرے گھر 🏠 کے بازوں میں دیوبندی،وہابی، اہل حدیث رہتے ہیں اور وہ غریب بھی ہے تو کیا اسے قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں بہت مہربانی ہوگی
المستفتی : محمد عبد الرزاق بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
دیوبندی،وہابی، اہل حدیث ضروریات دین کےمنکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ قربانی کا گوشت بروصلہ کے طور پر ہی دیا جاتا ہے جب اسے دیا جائے گا تو فطری طور پر ان سے مودت اور انسیت ہو گی یا ان سے کم سے کم عداوت ختم یا کم ہوگی اور یہ دونوں باتیں قرآن وحدیث کے خلاف ہیں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے: وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔قال ﷲ تعالی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۔وقال تعالی لا تجد قوما یومنون بالله و الیوم الآخر یوادون من حاد ﷲ و رسوله ولو کانوا آبائهم أو اخوانهم أو عشیرتهم۔ ترجمہ:اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو، اور اللہ تعالی نے فرمایا: تم لوگوں کو ایسا نہ پاؤ گےکہ جو اللہ تعالی اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان سے دوستی رکھیں کہ جنہوں نے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اگر چہ وہ ان کے باپ دادا یا انکے بھائی یا انکے قبیلہ کے لوگ ہوں۔ اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،( جلد 21 صفحہ 278) اسی میں ہے : مجرد معاملت کاحکم: اور معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائز ہے جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفریا معصیت ہو نہ اضرار اسلام وشریعت ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافر، ( جلد 14 صفحہ 433/432)
لہذا دیوبندی،وہابی، اہل حدیث اگر چہ پڑوسی ہو اسے قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں۔
واللہ تعالی اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
،حضرت مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن:نل باڑی
سوناپورہاٹ، اتردینا جپور، بنگال
8 / ذی الحجہ 1441ھ
30/ جولائی 2020ء
