السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء اکرام کی بارگاہ میں
میرا آج کا سوال ہے کہ جو لوگ قربانی کرتے ہیں ان کو کتنی قربانیاں کرنی چاہیے
جواب عنایت فرمائیں
از سائل: قلم زاہد رضا ازہری
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
جو مالک نصاب ہو اسے ہر سال ایک قربانی کرنا واجب ہے
فتاویٰ رضویہ میں ہے :اور قربانی جس پر واجب ہے اس پر ایک ہی واجب ہے زیادہ نفل ہے۔ چاہے ہزار جانور قربانی کرے گا ثواب ہے۔ نہ کرے گا کچھ مواخذہ نہیں۔فی الدرالمختار تجب التضحیة عن نفسه لاعن طفله علی الظاھر بخلاف الفطرۃ، شاۃ او سبع بدنه، اھ ملتقطا،درمختار میں ہے قربانی خود اپنے طرف سے واجب ہے۔ نابالغ اولاد کی طرف سے اس پر واجب نہیں بخلاف فطرانہ کے۔قربانی کے لئے بکری یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ اھ ملتقطا،وفی الخانیة فی ظاہر الروایة یستحب ولایجب بخلاف صدقة الفطر۔ والفتوٰی علی ظاہر الروایۃ اھ ملخصا۔ اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر روایۃ یہ کہ نابالغ کی طرف سے مستحت ہے واجب نہیں بخلاف صدقہ، فطر کے، اور فتوٰی ظاہر روایۃ پرہے اھ ملخصا۔( جلد 20 صفحہ 454)۔
واللہ تعالی اعلم۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبہ
محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردینا جپور، بنگال۔
8 / ذی الحجہ 1441ھ
30/ جولائی 2020ء
