تجارت میں منافع ستر فیصد یا تیس فیصد لینا جائز ہے یا نہیں؟؟
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام رہنمائی فرمائیں۔۔۔۔۔۔
اگر کسی شخص نے اس شرط پر کسی کو کچھ رقم دیا کہ جو بھی منافع ہوگا اسکا ستر فیصد تم رکھ لینا اور تیس فیصد مجھے دے دینا۔۔۔۔۔
کیا یہ صورت درست ہے؟؟؟
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔۔۔
سائل: برکت علی سعودی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب :صورت مسئولہ میں اس طرح کا شرط لگانا کہ جو کچھ منافع ہو اسکو بیان کر دینا جائز ہے مثلاً ستر فیصد تم رکھ لینا اور تیس فیصد مجھے دے دینا۔
فتاوی رضویہ میں ہے : دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینا اگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپیے اس کو تجارت کے لئے دے ہیں ان پر فیصدی دس یا یا فی روپیہ ایک آنہ مانگتا ہے تو حرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے دسواں یا سولہواں حصہ دینا تو یہ حلال ہے۔(جلد 19 صفحہ 151)
بہار شریعت جلد سوم میں ہے: نفع دونوں کے مابین شائع ہو یعنی مثلا نصف نصف یا دوتہائی ایک تہائی یا تین چوتھائی ایک چوتھائی۔( حصہ 14 صفحہ 2)
واللہ تعالیٰ اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پور، اتردیناجپور، بنگال۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
