السلام علیکم کیا فرماتیں ہیں علماءکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ پر کہ امام قعدہ اولی میں تها اور التحیات مکمل نہیں کیا تها کہ مقتدی نے لقمہ دے دیا اور امام اس کا لقمہ لے لیا تو مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں اور سب کی نماز ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرماییں مہربانی ہوگی
سائل : محمد ابن الحسن
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں اگر امام التحیات نہیں پڑھا اور مقتدی نے لقمہ دے دیا اور امام نے لقمہ لے لیا تو نماز فاسد ہو جائے گی یہ بے محل لقمہ ہے اور مقتدی کو بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے۔
رد المحتار میں ہے : ولو سمعه الموتم ممن ليس فى الصلاة ففتح به على أمامه يجب ان تبطل صلاة الكل لان التلقين من خارج ( ج2 باب مایفسد الصلاۃ صفحہ 382 )۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اُس کا معلوم ہونا دشوار ہے کہ امام آہستہ پڑھے گا، ہاں اگر یہ اتنا قریب ہے کہ اس کی آواز اس نے سنی کہ التحیات کے بعد اس نے درود شریف شروع کیا تو جب تک امام اللھم صل علٰی سے آگے نہیں بڑھا ہے یہ سبحان ﷲ کہہ کر بتائے اور اگر اللھم صل علی سیدنا یا صل علی محمد کہہ لیا ہے تو اب بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے ، اگر امام کو خود یاد آئے اور کھڑا ہوجائے فبہا اور اگر سلام پھیرنے لگے تو اس وقت بتائے ، اس سے پہلے بتائے گا تو بتانے والے کی نماز جاتی رہے گی اور اس کے بتانے سے امام لے گا تو اس کی اور سب کی جائے گی۔ ( جلد 8 صفحہ 212)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ،اتردیناجپور، بنگال۔
*23/ رمضان المبارک 1441ھ*
*17/ اپریل 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰