تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Do la waris lash mile to use shanakhat kese kere?_____دو لاوارث لاش ملے تو اسے شناخت کسے کرے ؟

0

Do la waris lash mile to use shanakhat kese kere?

 دو لاوارث لاش ملے تو اسے شناخت کسے کرے؟

السلام علیکم.....گروپ کے حضرات خیریت سے ھیں آپ لوگ..ایک سوال ہے دو لاوارث عورت کی لاش میلی ہے ایک ہندو کی اور ایک مسلمان کی لیکن ہمیں نہیں معلوم کے کون ہندو ہے اور کون مسلمان اب کس طرہ پہچانے کون ہندو کون مسلم....میرا مطلب اس کی پہچان کیا ہے.....


سائل : احمد رضا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

اگر لاش ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں کے محلّہ میں ملا تو غسل دیں اور نماز پڑھیں ورنہ نہیں۔اگر لاش مسلمان مُردے کافر مُردوں میں مل گئےاور کسی علامت سے شناخت کر سکیں تو مسلمانوں کو جُدا کر کے غسل و کفن دیں اور نماز پڑھیں اور اگر امتیاز نہ ہوتا ہو تو غسل دیں اور نماز میں خاص مسلمانوں کے لیے دُعا کی نیت کریں اور اُن میں اگر مسلمان کی تعداد زیادہ ہو تو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن کریں ورنہ علیحدہ جگہ۔


فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ومن لا يدري أنه مسلم أو كافر فإن كان عليه سيما المسلمين أو في بقاع دار الاسلام يغسل والا فلا . موتي المسلمين إذا اختلطوا بموتي الكفار وان كان للمسلمين علامة يعرفون بها يميز بينهم وعلامة المسلمين الختان والخضاب ولبس السواد فيصلي عليهم وان لم تكن علامة أن كانت الغلبة للمسلمين يصلي على الكل وينوي بالصلاة الدعاء للمسلمين ويدفنون في مقابر المسلمين وأن كانت الغلبة للمشركين فإنه لا يصلي على الكل ولكن يغسلون ويكفنون ولكن لا علي وجه غسل موتي المسلمين وتكفينهم و يدفنون في مقابر المشركين۔(ج 1 کتاب الصلاۃ،الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثانی،صفحہ 159)۔


بہار شریعت جلد اول میں ہے: مُردہ مِلا اور یہ نہیں معلوم کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں کے محلّہ میں ملا تو غسل دیں اور نماز پڑھیں ورنہ نہیں ۔مسلمان مُردے کافر مُردوں میں مل گئے تو اگر ختنہ وغیرہ کسی علامت سے شناخت کر سکیں تو مسلمانوں کو جُدا کر کے غسل و کفن دیں  اور نماز پڑھیں اور امتیاز نہ ہوتا ہو تو غسل دیں اور نماز میں خاص مسلمانوں کے لیے دُعا کی نیت کریں  اور اُن میں اگر مسلمان کی تعداد زیادہ ہو تو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن کریں ورنہ علیحدہ۔(حصہ 4 صفحہ 818)۔


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، والقضاء،متوطن :نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔

*11/ شوال المکرم 1441ھ* 

*4/ جون 2020 ء*

*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰=======================

 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad