السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ،کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نومولود کے کان میں اذان و اقامت دینے کا طریقہ کیا ہے جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔
(ج 12 صفحہ 150 رقم : 6780)
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : جب بچہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان ،بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان و ام الصبیان سے بچے۔
( ج24/صفحہ 452 )
بہار شریعت جلد سوم میں ہے: جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاء ﷲ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔
( عقیقہ کا بیان حصہ 15/صفحہ355 )
