دوران تلاوت سبحان اللہ، الحمدللہ، ماشاءاللہ، بہت خوب بلند آواز سے کہنا جائز ہے یا نہیں؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں جلسہ کرتے ہیں قاری صاحب قرآن مجید سے شروع کرتے ہیں اور جب قاری صاحب قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وقفہ کرتے ہیں اس وقت کچھ لوگ سبحان اللہ، الحمدللہ، ماشاءاللہ، بہت خوب، بلند آواز میں کہتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے شرعاً جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد اکرام الحق
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں جلسہ وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے درمیان جب قاری صاحب وقفہ کرتے ہیں اس وقت بلند آواز سے سبحان اللہ، الحمدللہ، ماشاءاللہ، بہت خوب، کہہ کر داد دینا ناجائز و گناہ ہے کہ کیونکہ وقفہ قرآت ( تلاوت ) کے حکم میں ہے سامعین پر ضرور ہے کہ ہمہ تن گوش ہو کر تلاوت قرآن پاک سنیں اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو تلاوت کے آداب کے خلاف ہو۔
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَإِذَا قُرِيَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَانْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔
(پارہ 9 سورہ الاعراف آیت 204)
اسی آیت کے تحت علامہ سید محمد نعیم الدین مرادآبادی تحریر فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآن مجید پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارج نماز اس وقت خاموش رہنا واجب ہے۔
(کنز الایمان پارہ 9 سورہ الاعراف آیت 204 صفحہ 332)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : رفع الصوت عند سماع القرآن والوعظ مكروه وما يفعله الذين يدعون الوجد والمحبة لا أصل له ويمنع الصوفية من رفع الصوت وتخريق الثياب۔ ترجمہ : اور قرآن ووعظ سننے کے وقت آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور جو لوگ وجد و محبت کا دعویٰ کر کے ایسا کرتے ہیں اس کی کچھ اصل نہیں ہے اور صوفی لوگ آواز بلند کرنے سے اور کپڑے پھاڑنے سے منع کئے جائے گے ۔
( 5 کتاب الکراھیۃ باب الرابع فی الصلاۃ الخ صفحہ 319 )
والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
٢١ذی القعدہ ۱۴۴۰ ھ بمطابق ۲۵جولائی 2019 بروز جمعرات
📞+918793969359