فجر،ظہر،عصر،عشاء کی اذان کے بعد جماعت کے لئے وقفہ کیوں؟اور مغرب میں کیوں نہیں؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام کیا فرماتے ہیں مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں
فجر،ظہر،عصر،عشاء کی جماعت کے لئے اذان کے بعد تقریباً پندرہ منٹ،یاتیس منٹ کا وقفہ رکھا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جماعت میں شامل ہونے کا موقع مل جائے اسی طرح مغرب کی اذان کے بعد پانچ منٹ یادس منٹ کا وقفہ رکھنا مغرب کی نماز کےلئے درست ہے یانہیں اگر نہیں تو کیوں ؟
حالانکہ مغرب کا وقت تقریباً ایک کھنٹہ سے زیادہ رہتا ہے ساتھ ہی مغرب کی نماز کا اول وقت کتنارہتاہے (یعنی آدھا کھنٹہ یا پونا کھنٹہ یا اس سے کم یا زیادہ اس کی بھی وضاحت فرمائیں گے) اور مغرب کی نماز کا مکروہ وقت کب سے شروع ہوتا ہے اور کب تک رہتا ہے اس کی بھی ضرور وضاحت فرمائیں گے
تشفی بخش جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں گے
العارض : محمد نسیم الدین رضوی سیتا مڑھی بہار
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
فجر،ظہر،عصر،عشاء کی جماعت کے لئے اذان و جماعت کے درمیان اس لئے دس،پندرہ منٹ کا وقفہ کیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن عبد الله بن مغفل المزني ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بين كل اذانين صلاة، قالها ثلاثا، قال فيالثالثة لمن شاء " ترجمہ" ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے آپ نے یہ ارشاد تین بار فرمایا۔ اور تیسری مرتبہ فرمایا: جس قدر وہ چاہے۔ (صحیح مسلم ، کتاب فضائل القرآن وما یتعلق بہ، باب بین کل اذانین صلاۃ، حدیث1940)(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب بین کل اذانین صلاۃ لمن شاء، حدیث 627) لہذا وہ نمازیں جن سے پہلے نوافل پڑھے جاتے ہیں یا سنن پڑھی جاتی ہیں تو ان کا پڑھنا مستحب ہی کیوں نہ ہو ان کے درمیان فصل ( وقفہ) کیا جائے گا۔ مغرب میں اس لئے وقفہ نہیں ہے کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک مغرب میں تاخیر مکروہ ہے،اور دوسری وجہ یہ ہےکہ اس میں یہود کے ساتھ مشابہت ہے۔ہدایہ اولین میں ہے : (و يجلس بين الاذان والإقامة إلا في المغرب) ولابي حنيفة رحمه الله أن التأخير مكروه. (و ) يستحب ( تعجيل المغرب)لان تأخيرها مكروه لما فيه من التشبه باليهود. قال عليه الصلاة والسلام ( لاتزال أمتي بخير ما عجلوا المغرب واخروا العشاء ) ترجمہ: نماز مغرب کے سوا اذان و اقامت کے درمیان بیٹھے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تاخیر مکروہ ہے ۔اور مغرب میں جلدی مستحب ہے کیونکہ اس میں تاخیر مکروہ ہےاسی وجہ سے کہ اس میں یہود کے ساتھ مشابہت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: میری اُمت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی جب تک انہوں نے مغرب میں جلدی کی اور عشاء کو مؤخر کیا۔ (کتاب الصلاۃ، باب الاذان صفحہ83/89 )
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن :نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰