کسی بھی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو بدبخت ( بد نصیب ) کہنا درست ہے یا نہیں؛
اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــــوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے کہ زید نے کسی مسلمان کو بد بخت کہا جب کہ جس شخص کو بد بخت کہا گیا ہے وہ عالم دین بھی ہے؛
بکر کا کہنا ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند نے ایک صاحب کو کسی مسلمان کو بد نصیب کہنے کی وجہ سے بر سر اسٹیج توبہ کروایا تھا؛
حضور مفتی اعظم ہند نے فرمایا کہ مسلمان بد نصیب نہیں ہو سکتا؛
کیونکہ اگر وہ بد نصیب ہوتا تو اسے ایمان نصیب نہیں ہوتا
لہٰذا کسی مسلمان کو بد بخت کہنے والے پر حکم شرع کیا ہے
قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں؛؛؛
ســـائل:محمد عرفان رضا قادری
═════════════
وعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الجوابـــــ بعون الملکــــ الوہابـــــ
صورت مسئولہ میں کسی بھی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو بدبخت ( بد نصیب ) کہنا درست نہیں۔ اگر زید نےاس وجہ سے بد بخت کہا کہ وہ عالم دین ہے تو یہ توہین ہے کہ یہ توہین فی الواقع علم دین کی ہوگی جو ضرورکفر ہے مجمع الانہر میں ہے : والاستخفاف بالإشراف والعلماءكفر۔(ج 1صفحه 195)اسی میں ہے : من قال لعالم عويلم على وجه الاستخفاف كفر. جو کسی عالم دین کو تحقیر کے طور پر "مولویا"کہے کافر ہوجائے۔( ج 1صفحه 695)
اگر زید نے علم دین کی وجہ سے بدبخت نہیں کہا بلکہ ذاتی رنجش یااپنے دینوی مفاد کے لئے ہو تو کفر نہیں صرف حرام و گناہ ہے کسی عالم دین سےبلا وجہ ذاتی دشمنی رکھنا جائز نہیں ہے۔حدیث شریف میں ہے : من اذي مسلم فقد اذاني و من اذاني فقد اذي الله. جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی گویاکہ اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی گویا کہ اس نے اللہ کو تکلیف دی۔(کنز العمال ج16 صفحه 10)
اگر زید بغض وعنادکی وجہ سے بدبخت کہتا ہے تو خوف ہے کہ زید کفر پر مرے۔فتاوی ہندیہ میں ہے : من أبغض عالما من غير سبب خيف عليه الكفر.جو کسی عالم دین سے بغیر کسی سبب ظاہر کے بغض رکہے تو اس پر کفر کا خوف ہے۔(کتاب السیر الجزء الثانی صفحہ 270)اسی میں ہے: ويخاف عليه الكفر إذا شتم عالما أو فقيهامن غير سبب.اور اگر بغیر سبب کےکسی عالم دین یا فقیہ پر ستم کیا یعنی بدگوئ سے یاد کیا تو اس پر کفر کا خوف ہے۔(كتاب السير الجزء الثاني صفحه 270)۔ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: کسی بھی سنی صحیح العقیدہ کو بد نصیب کہنا درست نہیں۔ اس کے خوش نصیب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور آپ کا امتی ہونا نصیب ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی نے بھی حضور کا امتی ہونے کی خواہش ظاہر فرمائی ۔ البتہ کسی عظیم نعمت کے زائل ہونے یا حاصل نہ ہونے پر یا کسی کو اس کی بد عملی کے سبب کم نصیب کہہ سکتے ہیں بد نصیب نہیں ۔( فتاویٰ فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 283)
واللــه و رســوله اعــلم بالصــواب
═════════════
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
حضــرت مـفــتى محـــــمد مـــظہـر حســـين سعــدى رضــوى
خــادم سعدی دارالافتــا، ۔متوطن : نــل بــاڑی، سـونـا پـور، اتــر دینـــاجـپور بنـــگال
رابـطـــہ نـمبـــر
https://wa.me/+918793969359