السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام مفتیان عظام سے میرا ایک مسئلہ ہے اذان کی تعلق سے کی مسجد میں کس طرف اذان دی جائے یعنی
بائیں طرف یا دہنے طرف مدلل جواب عنایت فرمائیں
سائل : عبدالتواب بلرام پوری یوپی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : اذان منارہ پر کہی جائے جس طرف واقع ہو یا بیرونِ مسجد جدھر زیادہ نافع ہو، مثلاً ایک جانب کوئی موضع رفیع زائد ہے یا اُس طرف مسلمانوں کی آبادی دُور تک ہے تو اُسی سمت ہونی چاہئے کہ اصل مقصود اذان تبلیغ واعلام ہے جس طرف یہ مقصود زیادہ پایا جاوے وہی افضل ہے باقی دہنے بائیں کی کوئی تخصیص شرع مطہر سے ثابت نہیں، ہندیہ میں ہے: ینبغی ان یؤذن علی المئذنة اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد کذافی فتاوی قاضی خان السنة ان یؤذن فی موضع عالٍ یکون اسمع لجیرانه ویرفع صوته کذا فی البحر الرائق۔اذان منارہ پر یامسجد سے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے کذافی فتاوٰی قاضی خان سنّت یہ ہے کہ اذان ایسے بلند مقام پر دی جائے کہ گرد و نواح کے لوگوں کو آواز خوب سنائی دے اور اذان میں آواز بلند رکھے،کذا فی البحرالرائق۔ معہذاکہہ سکتے ہیں کہ دونوں جانبیں دہنی اور دونوں بائیں ہیں کہ جو قبلہ رُو کھڑا ہو اس کی دہنی طرف کعبہ معظمہ ومسجد کی بائیں ہے اور اُس کی بائیں کعبہ ومسجد کی دہنی تو جب دونوں طرف نفع برابر ہو دونوں یکساں ہیں،( جلد 5 صفحہ 370)
واللہ سبحٰنہ تعالی اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء ،متوطن : نل باڑی ،سوناپورہاٹ،اتردیناجپور بنگالج
*15/ ذی القعدہ 1441ھ*
*7/جولائی 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
