اَلسَّــــلَامُ عَلَــــیْکُمْ وَرَحْـــمَتُہ اللُّہِ وَبَـــرَکَاتُہ
حضرت ایک مسئلہ ہے تراویح کی نماز اگر تین رکعت ہوجائے تو کیا حکم ہے اور تینوں رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا ہے اس کا کیا حکم ہے
سائل :- محمد توصیف چشتی
____________________
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَــرَڪَاتُہْ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں مذہب اصح پر نماز نہ ہوئی جو قرآن پڑھا گیا ہے اعادہ کرے
فتاویٰ رضویہ میں ہے: مذہب اصح پر نماز نہ ہوئی اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھا گیا اعادہ کیا جائے
:رد المحتار میں ہے
في ردالمحتار لو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتبارا بصلاة المغرب ليكن الأصح عدمه لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة لان التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها۔ ترجمہ : ردالمحتار میں ہےاگر کسی نے تین نوافل ایک قعدہ کے ساتھ ادا کئے تو مغرب کی نماز پر قیاس کرتے ہوئے ان کو جائز کہنا چاہئے مگر اصح یہ ہےکہ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہ رکعت (آخری) باطل ہوجائے گی جس کے ساتھ قعدہ نہیں کیونکہ ایک نفل مشروع نہیں لہذا پہلے بھی فاسد ہوگے:
(جلد 8 صفحہ 180)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور بنگال۔
رمضان المبارک 1440/17ھ
بمطابق 2019/5/22ء
https://wa.me/+918793969359
