Agar bibi farar ho jai to bachun ki parwarish ka haq kis ko hai?
اگر بیوی فرار ہو جائے تو بچوں کی پرورش کا حق کس کو ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں ہندہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اور اپنے چھوٹے چھوٹے دو بچوں کو لے کر (ایک لڑکا جس کی عمر ١٣ سال ہےاور ایک لڑکی جس کی عمر ١٠ سال ہے) غیر مرد کے ساتھ فرار ہو گئی ہے اور اپنے شوہر سے طلاق مانگ رہی ہے اور عورت کا شوہر اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا ہے ایسی صورت میں شوہر کے لئے شریعت کا کیاحکم ہے اور ہندہ اپنے بچوں کے لئے زمیں و جایداد بھی مانگ رہی ہے
از روے شریعت کیا زید کی بیوی طلاق کے بعد اپنے بچوں کے لئے زمیں و جایداد مانگ سکتی ہے؟
اور طلاق کے بعد دونوں بچے کس کی پرورش میں رہینگے بیوی یا شوہر کے؟
اور ایسی صورت میں برائی کو روکنے کے لئے گاوں والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے
(حسم الدین بنیا پور( سارن
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
طلاق دینا کا حق صرف مرد کو ہے جب تک مرد طلاق نہ دے عورت اسی شوہر کے نکاح میں رہے گی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : بيده عقدة النكاح۔ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔(پارہ 2 سورہ بقرہ آیت 237) دوسری جگہ ہے : وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ ۔ ترجمہ : اور حرام ہیں شوہر والی عورتیں( پارہ 5 سورہ نساء آیت 24)
(ا)
بچوں کا حقدار ماں ہے لڑکا سات سال کی عمر تک، اور لڑکی نو سال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہے گی۔ بعد بلوغ پرورش کا حقدار باپ ہے، بعد طلاق زمین وجائداد کا حق صرف بچے ہیں نہ کہ والدہ۔ اور والدہ کو بچوں کی زمین وجائداد مانگنا درست نہیں، درمختار میں ہے : الحضانة للام إلا أن تكون فاجرة أو متزوجة بغير محرم الصغير. والحضانة أما أو غيرها أحق به أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتي، والام الجدة أحق بها حتي تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهي وقدر بتسع وبه يفتي. ( ج5 کتاب الطلاق، باب الحضانۃ صفحہ268/253)۔
(ب)
گاؤں والوں پر ضروری ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق جس کے ساتھ فرار ہوئی ہے اس سے فورا جدا کردیں، بعد طلاق،اور بعد عدت دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرا سکتیں ہیں
صحیح مسلم میں ہے : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من راى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الإيمان " ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع)کام کو دیکھے تو اس کو مٹادے اپنے ہاتھ سے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے،اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو) یہ سب سے کم درجہ کا ایمان ہے۔"(کتاب الایمان، بيان كون النهي عن المنكر من الايمان إلخ)
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، والقضاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور بنگال
*28 / ذی الحجہ 1441ھ*
*19/اگست 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰