السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین کیا جنب کی حالت میں ورد کیا جا سکتا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی.
سائل : محمد شاہد کیراکت
_______________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ناپاکی کی حالت میں درود اور وظائف وغیرہ پڑھے سکتے ہیں اور شرعا جائز ہے
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ويجوز للجنب والحائض الدعوات وجواب الاذان ونحو ذلك۔
ترجمہ : جنبی اور حائضہ کے لیے دعائیں پڑھنا اور اذان کا جواب دینا اور اس جیسی چیزیں جائز ہے ۔
(ج1 الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والستحاضۃ صفحہ 38)
درمختارمع ردالمحتار میں ہے : ولا يكره النظر إليه أي القران لجنب وحائض ونفساء لان الجنابة لا تحل العين مالا تكره أدعية اي تحريما والا فالوضؤ لمطلق الذكر مندوب وتركه خلاف الاولىٰ وهو مرجع الكراهة التنزيهية۔
۔ جنبی و حیض و نفاس والی عورت کے لیے قرآن مجید کو دیکھنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ جنابت آنکھ میں سرایت نہیں کرتی اور نیز دعائیں پڑھنا مکروہ تحریمی نہیں ہے البتہ مطلق ذکر کے لیے وضو کر لینا مستحب ہے اور بے وضو پڑھنا خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی ہے
(ج1 ملخصا باب الحیض صفحہ 488/89)
شرح وقایہ میں ہے : وسائر الأدعية والاذكار لا بأس بها ۔ترجمہ تمام قسم کی دعائیں اور اذکار پڑھنے میں کوئ حرج نہیں ہے
(ج1 باب الحیض صفحہ 116)
بہار شریعت جلد اول میں ہے : قرآن مجید کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف درود شریف وغیرہ پڑھنا بلاکراہت جائز ہے بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کر کے پڑھنا بہتر ہے اور ایسے ہی پڑھ لیاجب بھی کوئی حرج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حرج نہیں۔(حصہ 2صفحہ379)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
_______________________
کتبہ : حـضـرت مفتی مـحـمـد مـظـہـر حسیـن سـعـدی رضـوی، خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نـل بـاڑی، سـونـا پـور ہاٹ، اتـر دیـناجـپور،بـنگال)
*بتاريخ، ۱۸ ذی الحجہ ٠۴۴١ھ*
*+918793969359+📲*
