السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ میں کہ وہابی اور دیوبندی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
سائل: محبوب رضوی بارہ بنکی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
وہابی دیوبندی ضروریات دین کےمنکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر۔ یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)
جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔ ( جلد 2 صفحہ 466 )
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وحاصله وان كان هوى لا يكفربه صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة والا فلا هكذا فى التبيين والخلاصة و هو الصحيح هكذا في البدائع ( ج 1کتاب الصلاۃ ، الباب الخامس فی الامامة، الفصل الثالث فى بيان من يصلح اماما لغيره، صفحہ 84 )
فتاویٰ رضویہ میں ہے: دیوبندی عقیدے والوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے، ہوگی ہی، نہیں فرض سر پر رہے گا، اور ان کے پیچھے پڑھنے کا شدید عظیم گناہ۔ علاوہ امام محقیق علی الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہمارے تینوں ائمہ مذہب امام اعظم ابوحنیفہ و امام ابویوسف وامام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے نقل فرماتے ہیں: ان الصلاة خلف اهل الهواء لا تجوز ۔ ترجمہ: اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ اس میں سب برابر ہیں نماز پنجگانہ ہو خواہ جمعہ یاعید یا جنازہ یاتراویح کوئی نماز ان کے پیچھے ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ اگر (ان کو قابلِ امامت یا مسلمان جاننا بھی درکنار) ان کے کفر میں شک بھی کرے تو خود کافر ہے جبکہ ان کےخبیث اقوال پر مطلع ہو۔ علمائے حرمین شریفین بالاتفاق فرماتے ہیں : من شك فى عذابه وكفره فقد كفر ۔ یعنی جو شخص انکے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ( جلد 6 صفحہ 573 )
لہذا مذکورہ بالا عبارتوں سے واضح ہوا کہ وہابیوں و دیوبندیوں کے پیچھے نماز باطل ہے جو لوگ ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوتے ہوئے انہیں مسلمان جان کر ان کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دائر اسلام سے خارج ہے اس پر توبہ و استغفار و تجدید ایمان و تجدید نکاح اور تجدید بیعت لازم ہے اور اگر انکے عقائد کفریہ پر مطلع نہیں یا کافر جانتا ہے لیکن کسی دنیوی غرض یامجبوی سے ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے تو سخت گنہگار ہے اور ان کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں باطل، اسکا پھیرنا فرض ہے وہ بھی توبہ و استغفار کرے اور آئندہ بھرپور خیال رکھیں۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن : نل باڑی ،سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال،
_*7/ شعبان المعظم 1441ھ*_
_*1/ اپریل 2020 ء*_
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

MA SHA ALLAH
ReplyDeleteBoht Acha clear Jawab Diya hai,
ALLAH PAK aapko EMAAN O Aafiyat wali lambi Zindagi Ataa farmaey,
Aameen
آمین
Delete