تعظیمی نعرہ لگانا کیسا ہے ؟؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
سوال۔ کیافرماتے ہیں علماےدین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل میں کہ
کہ تعظیمی نعرہ لگانا کیسا ہے ؟
مع حوالہ کتب معتبرہ۔۔۔۔۔۔۔
ساٸل ۔تسنیم۔رضوی مقام کولکاتا بنگال
____________________
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مذکورہ میں عالم دین ہو یا کوئی شیخ ان کی آمد کی اطلاع اور خاص ان کی تعظیم کے لئے نعرہائے تکبیر یا درود شریف یا سبحان اللہ وغیرہ لگانا جائز نہیں کیونکہ یہ کلمات اللہ تعالی کی تعظیم کے لیے خاص ہیں اور ان کلمات کے ذریعہ کسی کی آمد و رفت پر اطلاع کی خبر دینا یا ان کلمات کے ذریعہ خاص آنے والے کی تعظیم مقصود ہو کہ لوگ اس کی تعظیم کو اٹھیں اور جگہ چھوڑ دیں تو یہ ناجائز ہے ۔
رد المحتارمیں ہے : و عن هذا يمنع إذا قدم واحد من العظماء الى مجلس فسبح أو صلي على النبي صلى الله عليه وسلم إعلاما بقدومه حتى يفرج له الناس أو يقوموا له يأثم ( ج 3 مطلب ھل تقع الصلاۃ عائدا للمصلی ام له وللمصلی عليه صفحہ 230)
اسی میں ہے : لما في كراهية الفتاوي الهندية اذا فتح التاجر الثوب فسبح الله تعاليٰ أو صلي على النبي صلى الله عليه وسلم يريد به اعلام المشتري جودة الثوب فذلك مكروه وكذا الحارس لأنه يأخذ لذلك ثمنا.(ج3 صفحہ 230)
الاشباہ والنظائر میں ہے : وكذا الحارس إذا قال في الحراسة لا إله إلا الله يعني لأجل الاعلام بأنه مستيقظ يكون آثما۔ ( ج1والقاعدۃ الثانیۃ الامور بمقاصدها صفحہ 114)
فتاویٰ بزازیہ میں ہے : و عن هذا يمنع إذا قدم واحد من العظماء الى مجلس فسبح أو صلي عليه والسلام إعلاما بقدومه حتى يفرج له الناس أو يقومواله يأثم لأنه جعل اسم الله تعالى وصلاته على رسول عليه السلام وسلية إلي تعظيم الغير و استحلال هذا الصنع واعتقاده عبادةلاخفاء في أنه أمر هائل عظيم نعوذ بالله سبحانه من ذلك وقد ابتلينا به في ديارنا.( صفحہ 473)
یہی حکم اس وقت بھی جب کوئی دوسرا یہ اذکار اسی نیت سے کرے اور یہ جاننے والا اس پر راضی بھی ہو۔
بہار شریعت جلد اول میں ہے : گاہک کو سودا دیکھاتے وقت تاجر کا اس غرض سے درود شریف پڑھنا یا سبحان اللہ کہنا ہے کہ اس چیز کی عمدگی خریدار پر ظاہر کرے ناجائز ہے یوہیں کسی بڑے کو دیکھ کر درود شریف پڑھنا اس نیت سے کہ لوگوں کو اس کے آنے کی خبر ہو جائے اس کے ساتھ اٹھیں اور جگہ چھوڑ دے نا جائز ہے (صفحہ533)
ہاں اگر کسی معظم دینی آمد پر اظہار مسرت کے لئے لئے نعرۂ تکبیر و نعرۂ رسالت بلند کیے جائے یانعرۂ تکبیر اور نعرہ رسالت کے ذریعہ لوگوں کو علم دین کےوعظ سننے کو ہمہ تن گوش ہو جانے کے لیے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر یا رسول اللہ کی صدائیں بلند کی جائیں اس میں کوئی حرج نہیں۔
الاشباہ والنظائر میں ہے : بخلاف العالم إذا قال في المجلس صلوا على النبي فإنه يثاب على ذلك وكذا الغازي إذا قال كبروا يثاب لان الحارس والفقاعي يأخذان بذلك أجرا۔( ج1والقاعدۃ الثانیۃ الامور بمقاصدها صفحہ 114)
تنبيهًا آج کل ہمارے جلسوں میں عموماً نعت شریف یا تقریر کے درمیان یہ عمل پایا جاتا ہے جس سے مقرر یا نعت خواں یا سامعین کو سخت خلل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نعت رسول اور مقرر کا ذکر خدا و رسول اور پند و نصائح کا سلسلہ کچھ دیر موقوف بھی کرنا پڑتا ہے اس پر لوگوں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ اعلم سبحانہ وتعالی
___________________
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور، ویسٹ بنگال، الھند۔
*🗓 ۲۵ مئی بروز سنیچر ۲۰۱۹ عیسوی* https://wa.me/+918793969359
___________________
