السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اِس مسلہ ذیل کے بارے میں زید کا موبائل چوری ہوا زید نے بکر پر شک کیا بکر سے پوچھ تاچھ کرنے پر بکر کے پاس سے موبائل برآمد ہوئے کچھ لوگوں نے بکر کو مار نا چاہا جب کچھ ذمدار علمائے کرام نے سونا کے لوگ بکر کو مارنا چاہتا ہیں تب علماء کرام نے لوگوں سے کہا کے بکر کو نا مارا جائے بلکہ بکر کو دوبارہ نا چوری کرنے کی قسم کھلائی جائے اور وہ قسم یہ ہے اگر تونے دوبارہ چوری کی جب جب نکاح کریگا تب تب تمہاری بیوی پر طلاق اس قسم پر بکرنے اِقرار بھی کر لیا تو کیا ایسی قسم کھلانا درست ہے اگر ایسی قسم کھلانا درست ہے تو اس قسم کا کفارہ کیا ہے اگر ایسی قسم کھلانا صحیح نہیں تو اُن علمائے کرام پر شریعت کا کیا حکم ہے
2 اُن علماء میں سے ایک خالد بھی ہے جب ان سے پوچھا گیا کے ایسی قسم كيوں کھلائی تو خالد نے اس بات کے جواب میں کہا کے ھم یہی قسم کھیلا ینگے تو کیا خالدکا یہ کہنا صحیح ہے اگر صحیح نہیں ہے تو اس پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوگا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
المستفتی : اسرار عالم احمدی اسلام پور ضلع اُتر دیناج پور بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں بکر سے اگر آئندہ کبھی بھی چوری سرزد ہوئی اور یہ فعل انجام پایا تو جب جب وہ نکاح کرے گا تب تب طلاق واقع ہو جائے گی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ألفاظ الشرط ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين.و لو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة وان كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي ۔ ( ج 1،کتاب الطلاق ، الباب الرابع، الفصل الاول فی الفاظ الشرط، صفحہ 415)۔
جن جن لوگوں نے قسم کھلانے پر مجبور کیا یا قسم کھلوایا ان کو ایسی قسم نہیں کھلوانا چاہئے کیونکہ ایسی قسم کھلا کر لوگوں کو دشواری میں ڈالنا ہے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: عن ابي موسى ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث احدا من اصحابه في بعض امره، قال: " بشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا " ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی کام دے کر بھیجتے تو فرماتے: ”خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلایاکرو،آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو۔ (صحيح مسلم ،كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ،باب فِي الأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ/سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی کراہۃ المراء)
لہٰذاجن جن لوگوں نے قسم کھلوائی وہ آئندہ اس طرح کی قسم کسی دوسرے کو نہ کھلوائیں اور احتیاط برتیں ۔اور اسکا کوئی کفارہ نہیں ہے۔
ھذا ما ظھر لی والعلم عنداللہ ورسولہ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال،
*19/ شعبان المعظم 1441ھ*
*13/ اپریل 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
