السلام علیکم ورحمةاللہ و برکاتہ
کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوٰة ٫ فطرہ٫ عشر وغیرہ کے رقم کو اکٹھا کر کے کسی غیر مالک نصاب کو دیکر یہ کہا جاۓ کہ اس میں سے جتنے کی ضرورت ہے آپ اتنا لے لیں اور باقی کو مسجدکے کام یا مدرسے کی زمین خریدنے کے لیۓ ھبہ کر دیں یا یوں ہی دے دیں تو کیا اب اس پیسے کو مسجد کے کسی کام میں یا مدرسے کی زمین خریدنے میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں براۓ کرم بحوالہ جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔۔۔۔۔۔۔
المستفتی۔۔ابو سفیان رضا مظفر پور (بہار)
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
فتاویٰ رضویہ میں ہے: زکوٰۃ دہندہ نے اگر زرِ زکوٰۃ مصرف زکوٰۃ کو دے کر اس کی تملیک کردی تواب اُسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوٰۃ اس کی تملیک سے ادا ہوگئی، یُوں ہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہو میری زکوٰۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیتِ زکوٰۃ لے لیا، اس کے بعد مسجد میں لگادیا تو یہ بھی صحیح وجائز ہے، یونہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ نکال کر رکھا تو فقیر نے بے اس کی اجازت کے لے لیا اور مالک نے بعداطلاع اس کا لینا جائز کردیا اور اس کے بعد فقیر نے مسجد میں صَرف کیا تو یہ بھی صحیح ہے،اور اگر فقیر نے بطور خود قبضہ کرلیا اور مالک نے اُسے جائز نہ کیا یا بعد اس کے کہ یہ مسجد میں لگا چُکا،جائز کیا، تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ یونہی اگر مالک نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیک نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا ( جلد 10 صفحہ 267)۔_*
اسی میں ہے: اور سب سے آسان یہ ہے کہ ایک دیندار شخص کے پاس سب زکوٰۃ دہندہ اپناچندہ جمع کریں اور اس سے کہہ دیں کہ زرِ زکوٰۃ ہے طریقہ شرعیہ پر بعد تملیکِ فقیر طبع میں ہمارے ثواب کے لئے صرف کر،وہ ایسا ہی کرے ، سب زکوٰتیں بھی ادا ہوجائیں گی اور وُہ دینی ضروری نافع کام بھی ہوجائیگا اور یہ اموال کا ملانا کہ باذن مالکانہ ہے کہ چندہ کا یہی طریقہ معروفہ معہودہ ہے کچھ مانع نہ ہوگا( جلد 10 صفحہ 257)۔_*
لہذا یہ جملہ نہ کہے اس میں سے جتنے کی ضرورت ہے آپ اتنا لے لیں بلکہ اس طرح کہے کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے آپ مالک بنے کے بعد خوشی سے مسجد ومدرسہ کی زمین خریدنے کے لئے صرف کرے اگر وہ دیدے تو مسجد ومدرسہ کی زمین خریدنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور اس سے جبرا لینا جائز نہیں۔_*
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور بنگال۔
*25/ رمضان المبارک 1441ھ*
*20/ اپریل 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
