ســـــــوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کالا خضاب لگانا حرام ہے کیا
عورت کیلٸے بھی یہی حکم ہےعلماٸے کرم رہنماٸی فرماٸیں
سائل:-مزمل حسین
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعَلَيْكُم السَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں محض زینت اور خوبصورتی کے لئے سیاہ خضاب لگانا از روئے شرع مکروہ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے خواہ عورت ہو یا مرد سب کے لئے یکساں حکم ہےاحادیث کریمہ میں سیاہ خضاب لگانے کی ممانعت مطلق آئی ہے مسلم شریف میں ہے : عن جابر ابن عبداللہ قال اتی بابی قحافہ یوم فتح مکہ وراسہ ولحیتہ کالدوامة بیاضا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیرو ھذا بشیئ و اجتنبوالسواد۔ ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایاگیا اور ان کا سر اور داڑھی ثغامہ(یہ ایک گھاس ہے )کیطرح سفید تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکو کسی چیز سے بدل دو یعنی خضاب لگاؤ اور سیاہی سے بچو یعنی سیاہ خضاب نہ لگانا۔ (ج2 صفحہ 199)
مشکوة میں ہے : عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یکون قوم فی آخر الزمان یخضبون ھذا السواد کھو اصل الحمام لا یجدون رائحتہ الجنتہ۔ ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتر کے پوٹے وہ لوگ جنت کی خوشبو نہیں پائیں گے (ج2 ص 382 )کنزالعمال میں ہے : ان اللہ تعالی لاینظر الی من یخضب بالسواد یوم القیامہ بیشک قیامت کے دن اسے نہیں دیکھے گا جو کالا خضاب لگاتا ہے مستدرک للحاکم میں ہے سواد خضاب الکافر کالا کافر کا خضاب ہے۔(ج 3 ص 247)
فتاوی ہندیہ میں ہے : من فعل ذالک لیزین نفسہ لنساء ولیجیب نفسہ الیھن فذالک مکروہ وعلیہ علمة المشائخ (ج5 ص359)
لہذا مذکورہ بالا احادیث و فقیہ عبارتوں سے ظاہر ہے کہ عورتوں اور مردوں کو سیاہ خضاب لگانا ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔
والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال8793969359📞
*٢٠ ربیع الاول شریرف ۱۴۴۱ ھ بمطابق١٨،نومبر 2019 بروز،پیر*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
