تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Zaid ka Bakar ko panch lakh rupeya tijarat ke liye dena es shart ke sath ke Wah har mah das hazar ya pandara hazar le ga es shart ke sath tijarat ke liye rupiya dena Sharna jaiz hai ya nahi---زید کا بکر کو پانچ لاکھ روپیہ تجارت کے لیے دینا اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہر ماہ دس (10000) ہزار یا پندرہ(15000) ہزار لے گا اس شرط کے ساتھ تجارت کے لیے روپیہ دینا شرعاً کیسا ہے ؟

2

Zaid ka Bakar ko panch lakh rupeya tijarat ke liye dena es shart ke sath ke Wah har mah das hazar ya pandara hazar le ga es shart ke sath tijarat ke liye rupiya dena Sharna jaiz hai ya nahi---

 


زید کا بکر کو پانچ لاکھ روپیہ تجارت کے لیے دینا اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہر ماہ دس (10000) ہزار یا پندرہ(15000) ہزار لے گا اس شرط کے ساتھ تجارت کے لیے روپیہ دینا شرعاً کیسا ہے 


   اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎  

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسٸلہ کےبارےمیں کہ کسی شخص نے تجارت کے لۓ 5 پانچ لاکھ روپے دیا اس شرط کے ساتھ کہ وہ 3 تین سال کے اندر وہ پانچ لاکھ روپے ادا کر دیگا اور 1 ایک لاکھ روپےفاٸدہ دےگا اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ جو پانچ لاکھ روپے اداکرےگا بیک وقت نہیں بلکہ وہ مہینے  10.000 یا 15000اداکرےگا کیا اس طرح کا لینا دیناجاٸزہے یا نہیں ۔   جواب عنایت فرماٸیں کرم نوازش ہو گی  جزاك  اللهُ خیرا‎

      سائل : محمد خیر الحق

____________________


و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


الجواب بعونہ تعالیٰ : یہ طریقہ بیع مضاربت کی ہےاس تجارت کو مضاربت کہتے ہیں، یہ تجارت میں ایک  قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام، مال دینے والے کو  رب المال اور کام کرنے والے کو مضارب اور مالک نے جو رقم دیا اسے راس المال کہتے ہیں،، اور بیع مضاربت میں فریقین کا مقدار متعین کرنا بیع کو فاسد کر دیتی ہے اور پانچ لاکھ کا چھ لاکھ لینا بھی سود ہے فریقین ہر ماہ دس (10000) ہزار یا پندرہ(15000) ہزار لینا حرام و ناجائز ہے اور دونوں گناہ گار ہونگے جب کہ دونوں مسلمان ہو اگر پانچ لاکھ روپیہ تجارت کے لیے دینے والا( رب المال)  مسلمان ہو اور ہر ماہ دس (10000) ہزار یا پندرہ(15000) ہزار لینا نفع دینے والا (مضارب) ہندو ہو تو اس ہندو سے ہر ماہ دس (10000) ہزار یا پندرہ(15000) ہزار لینا جائز ہے ہاں اگر  ( رب المال)(مضارب) دونوں نے نفع بیان کر دیں کہ جو نفع ہوگا اس میں سے نصف نصف یا دوتہائی یا ایک تہائی یا تین یا چوتھائی تو یہ جائز ہےدرمختار میں ہے : وكون الربح بينهما شائعا فلو عین قدرا فسدت وكون نصيب كل منهما معلوما عند العقد۔ ترجمہ : فریقین میں شائع ہونا ( مقدار عین نہ ہونا ) اگر مقدار معین ہوئی تو مضاربت فاسد ہو گئی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم ہونا 

(ج8 کتاب المضاربۃ صفحہ 433)


کنز العمال میں ہے :  كل قرض جر منفعة فهو ربا۔ ترجمہ : ہر وہ قرض جس کی  وجہ سے  نفع حاصل کیا جائے  وہ سود ہے 

( ج 6فصل فی لواحق کتاب الدین صفحہ 238) 


فتاویٰ ہندیہ میں ہے : فإن قال علي أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة۔ ترجمہ : اگر ایک نے دوسرے کو کہا نفع میں ایک سو درھم تیرے ہونگے یا نصف یا ثلث کے سا تھ مزید دس درھم کی شرط لگائی تو مضاربت صحیح نہ ہوگی

(ج 4کتاب المضاربۃ الباب الاول صفحہ287)

درمختار میں ہے : ولو قال له ما ربحت بيننا نصفان و دفع بالنصف 

(صفحہ 441)


فتاوی رضویہ میں ہے : ایک رقم تعین کر دیناکہ نفع ہو یا نہ کم ہو یا زائد ہر طرح اس قدر ماہوار دیں گے ضرور حرام ہے۔

( ج 19صفحہ 133)


اسی میں ہے : اور ہندو کے ساتھ شرط نقصان بھی کر لینا جائز ہے کیونکہ یہ عقد فاسد ہے اور یہ ہندو نہ تو ذمی ہیں اور نہ ہی مستامن ہیں

 ( صفحہ 129)


اسی میں ہے : دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینا اگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپیے اس کو تجارت کے لئے دے ہیں ان پر فیصدی دس یا یا فی روپیہ ایک آنہ مانگتا ہے تو حرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے دسواں یا سولہواں حصہ دینا تو یہ حلال ہے۔

 (جلد 19 صفحہ 151)


    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

______________________

کــتــبــہ

 حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور، بنگال

*🗓 23/جمادی الاولی 1441 ھ 19/جنوری 2020 ء* https://wa.me/+918793969359

ا___________💠⚜💠__________

Post a Comment

2 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad