تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Juma ki namaz gauon me hai ya nahi----جمعہ کی نماز گاؤں میں ہے یا نہیں اور جس مسجد میں جمعہ کی نماز کبھی بھی نہ ہو اس میں جمعہ قائم کرنا کیسا ہے؟

0

--جمعہ کی نماز گاؤں میں ہے یا نہیں اور جس مسجد میں جمعہ کی نماز کبھی بھی نہ ہو اس میں جمعہ قائم کرنا کیسا ہے؟

  

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایک گاؤں میں پہلے سے ایک مسجد میں جمعے کی نماز ہوتی تھی سب لوگ وہی پر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔اب جا کہ لاک ڈاؤن کا زمانہ آیا پھر بھی لوگ پہلی والی مسجد میں جمعے کی نماز ادا کرتے تھے جس دن الوداع ھونی تھی اسی دن کچھ مولانا لوگوں کی رائے سے اور کچھ جھلا لوگوں کی رائے سے الوداع کی نماز سے اسی گاؤں کی دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز قائم کردیا جبکہ دو کلومیٹر کے فاصلے پر کم از کم ٨جمعہ کی مساجد ہیں از روئے شرع گاؤں کے اس مسئلہ کو حل فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دیھات میں جمعہ قائم کرنے کی شرطیں ملاحظہ فرمائیں۔ازروئے شرع مذکورہ لوگوں پرکیا حکم صادر ھوتا ھے جواب عنایت فرمائیں۔۔۔نوٹ کہتے ہیں کہ جہاں ایک بار جمعہ پڑھ لیا جائے تو وہاں ہمیشہ کے لیے پڑھنا لازم ھو گیا۔۔۔اسکی بھی تصریح فرمادیں۔


المستسفی : محمد ذاکر حسین دیناجپور

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

جمعہ کی شرائط چھ ہیں (1) مصر یا فنائے مصر (2) سلطان اسلام یا اس کا نائب (3) وقت ظہر (4) خطبہ (5) جماعت (6)اذن عام۔


بحر الرائق میں ہے : واما شرئطها فنوعان :  شرائط صحة وشرائط وجوب، فالاول ستة کما ذکرہ المصنف : المصر والسلطان والوقت والخطبة والجماعة والأذان العام . (ج2 كتاب الصلاة، باب الجمعہ صفحہ 245)۔ ظاہر الروایت کے مطابق دیہات  گاؤں میں جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے لیکن ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے یہ آئی ہے کہ "جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آبادہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لئے شہر سمجھی جائے گی تو اگر اتنے مسلمان آباد ہوں کہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں نہ سماسکیں تو روایت نادرہ کی بنیاد پر جمعہ کی نماز  پڑھنے سے ہو جائے گی اور اس روز کی ظھر کی نماز ذمہ سے ساقط ہو جائے گی ۔اور اگر  یہ صورت نہ ہو تو وہاں بنام جمعہ نماز نفل ہوگی عوام اگر اسے پڑھیں تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ تعالی ورسول کا نام لیں غنیمت ہے اور جب بنام جمعہ دو رکعت نماز نفل ہوگی تو اس کے پڑھنے سے ظھر کی نماز ذمہ سے ساقط نہ ہو گی اس کا پڑھنا فرض اور جماعت کے ساتھ واجب الگ الگ پڑھنا گناہ ۔اور جو لوگ دیہات میں نماز ظہر جماعت کے ساتھ پڑھنے سے اعتراض کرتے ہیں وہ خطا پر ہے وہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کریں۔ہدایہ میں ہے:  ورواية عن الإمام أبي يوسف المصر موضع يبلغ المقيمون فيه عدد الا يسع اكبر مساجد إياهم الهداية وهو اختار البلخي وبه افتي اكثر مشائخ لما رأوا فساد اهل الزمان والولاة ۔ ترجمہ: امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ شہر وہ جگہ ہے جہاں کے رہائشی اتنے ہوں کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے ناکافی ہو، ہدایہ میں ہے یہ امام بلخی کا متخار ہے اور فساد زمانہ اور امراء کا فتنہ دیکھتے ہوئے اکثر مشائخ نے اسی پر فتویٰ دیا۔ (ج1  باب الجمعہ 148)۔ 


فتاویٰ رضویہ میں ہے : جمعہ و عیدین و کسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگرچہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وُہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہو کہ بالعموم اُن پر استحقاقِ امامت رکھتاہو، یا ایسے امام کا ماذون و مقرر کردہ ہو اوریہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے۔اوّل: وہ سلطان اسلام ہو۔ثانی: جہاں سلطنت اسلام نہیں وہاں امامتِ عامہ اس شہر کے اعلم علمائے کو ہے۔ثالث: جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں، بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود ایسا امام ہے نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ ،اس کی امامت ان نمازوں میں اصلاً صحیح نہیں، اگر امامت کرےگا نماز باطل محض ہوگی،جمعہ کا فرض سر پر رہ جائے گا، ان شہروں میں کہ سلطانِ اسلام موجود نہیں اور تمام ملک کا ایک عالم پر اتفاق دشوار ہے ،اعلم علمائے بلد کہ اس شہر کے سنّی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو ،نماز کے مثل مسلمانوں کے دینی کاموں میں ان کا امام عام ہو اور بحکم قرآن عظیم اُ ن پر اُس کی طرف رجوع اور اسکے ارشاد پر عمل فرض ہے ، جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خُود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے اُس کے خلاف پر عوام بطور خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کاتقرر بمجبوری اس حالت میں روا رکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو ،اُس کے ہوتے ہوئے اُن کی قرارداد کوئی چیز نہیں۔ ( جلد 6 صفحہ516/515 )۔


صورت مسئولہ میں صحت جمعہ کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سلطان اسلام یا اس کا نائب نے اگر وہ نہ ہو تو شہر کے سنّی عالموں ( یعنی وہاں کے بڑے مفتی) میں سب سے زیادہ فقیہ نے اگر وہ بھی نہ ہو تو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں اگر ان لوگوں نے اجازت دے دی ہو تو نماز جمعہ کی دوسری جگہ جماعت کر سکتے ہیں اور اگر شرائط جمعہ کے خلاف مولانا و عوام  کسی کو امام بنالیں تو ہرگز ہرگز جمعہ کی نماز صحیح نہیں خواہ پانچ وقت والی مسجد ہو یا مکان یا دوسری جگہ کہ عوام کا مقرر بمجبوری اس حالت میں روا رکھا گیا ہے جب کہ شہر مفتی موجود نہ ہو۔ عام لوگوں نے جس کو امام بنائیں ، وہاں کے مفتی ہوتے ہوئے مولانا و عوام بطور خود کسی کو  امام نہیں بنا سکتے اور دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں قائم کرسکتے ۔ اور لوگوں کا یہ کہنا کہ جہاں ایک بار جمعہ پڑھ لیا جائے تو وہاں ہمیشہ کے لیے پڑھنا لازم ھو گیا ایسے مسائل میں تفرقہ اندازی،فتنہ پردازی،جدال پسندی، فریق بندی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو اس کے ذریعہ شہرت چاہتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جمعہ کی نماز میدان ومکان میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔


غنیۃ المستملی میں ہے: لوصلی الجمعة فی قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرۃ لها قری وفیها وال حاکم جازة الجمعة بنوا المسجد اولم یبنوا و ھوقول ابی القاسم الصفار وھذا اقرب الاقاویل الی الصواب. وھو لیس ببعید مما قبله والمسجد الجامع لیس بشرط۔ترجمہ: اگر جمعہ بغیر جامع مسجد کے قریہ میں پڑھ لیا حالانکہ وہ قریہ بڑا تھا او راس کے اردگرد متعدد دیہات تھے اور وہاں والی وحاکم بھی تھا تو جمعہ جائز ہے خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں، شیخ ابوالقاسم الصفا ر کا یہی قول ہے اور یہ تمام اقوال میں سے صواب کے زیادہ قریب ہے۔ یہ قول اپنے ماقبل قول سے دور نہیں اور مسجد جامع ہونا جمعہ کے لئے شرط نہیں( فصل فی صلاۃ الجمعۃ صفحہ 551)۔


فتاویٰ رضویہ میں ہے: مگر جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو۔ ( جلد 8 صفحہ 440)۔


لہٰذا اگر شرائط جمعہ پائے جائے تو ان پر سے نماز ظہر ساقط، اور جمعہ کی نماز درست ہے ورنہ اگر شرائط جمعہ نہ پائے جائے تو ان پر نماز ظہر ذمہ فرض ہے اور امام اعلان کرے کہ جو الوداع کی نماز پڑھی گئی وہ نماز نہیں ہوئی اب اس دن کی نماز ظہر قضا پڑھیں اور یہ عوام و مولانا کا بلاشبہ ابتداع فی الدین ہےآئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنے کی عہد کریں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کریں اور لوگوں کو کہئے کہ جس طرح پہلی والی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے اب بھی وہیں ادا کریں۔


   واللہ اعلم سبحانہ وتعالیٰ ورسولہ اعلم ﷺ

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی ،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور بنگال

*15 / شوال المکرم 1441ھ* 

*8/ جون 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad