تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Dihat me jumma ki namaz pardhna kaisa hai---دیہات میں جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟ جن کی تعداد زیادہ ہو اور اس سے ظہر ساقط ہے یا نہیں ؟

0

دیہات میں جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟ جن کی تعداد زیادہ ہو اور اس سے ظہر ساقط ہے یا نہیں ؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ

نماز جمعہ گاؤں میں ہوسکتی ہے یا نہیں؟ ہمارے ہاں بعض لوگ گاؤں میں ناجائز کہتے ہیں۔ جب کہ جمعہ پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے؟ بینوا توجروا۔


         سائل؛ محمــــد اسماعیل رضـا 


""""""""""""""""""""""""""""""""""""

   وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

ظاہر الروایت کے مطابق دیہات وگاؤں میں جمعہ کی نماز نہیں ہے لیکن ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے یہ آئی ہے کہ "جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آبادہوں کہ اگر وہ وھاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لئے شہر سمجھی جائےگی۔فتاویٰ رضویہ میں ہے: صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ ورواية عن الإمام أبي يوسف المصر موضع يبلغ المقيمون فيه عدد الا يسع اكبر مساجد إياهم الهداية وهو اختار البلخي وبه افتي اكثر مشائخ لما رأوا فساد اهل الزمان والولاة ۔ترجمہ: امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ شہر وہ جگہ ہے جہاں کے رہائشی اتنے ہوں کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے ناکافی ہو، ہدایہ میں ہے یہ امام بلخی کا متخار ہے اور فساد زمانہ اور امراء کا فتنہ دیکھتے ہوئے اکثر مشائخ نے اسی پر فتویٰ دیا( ج1  باب الجمعہ 148)


اسی میں ہے: فمختار اکثر الفقہاء مراعة لضرورة زماننا والمفتي به عند جمهور المتاخرين في تعريف المصر الرواية المختارة للبلخي اي مالا يسع اكبر مساجده أهله المكلفون بها،وقال ابو شجاع هذا حسن ماقيل فيه وفي الولوالجية وهو صحيح( ج2 باب صلاۃ الجمعۃ صفحہ 247)

اسی میں ہے : بحر وعليه مشي في الوقاية ومتن المختار و شرحه وقدمه في الدرر على قول الآخر وظاهره ترجيحه وأيده صدرالشريعة بقوله لظهور التواني في احكام الشرع لا سيما في إقامة الحدود في الا مصار وكل موضع يصدق عليه التعريف المذكور فهو مصر تجب الجمعة علي أهله والا فلا تجب سواء ذلك الموضع يتعارف بلفظ القرية أو دونها ، غير المصر فالاٰن هو لاحق في حكم المصر شرعالا عرفا لتطبيق تعريف المتاخرين و هذا احسن وما لا يصدق عليه التعريف المذكور فهم ليس بمصر شرعاً و عرفا۔ترجمہ :  ہمارے زمانے کی ضرورت کے پیش نظر تعریف شہر میں اکثر فقہاء کا مختار اور متاخرین کا مفتی بہ قول و ہی روایت ہے جو امام بلخی کی مختار ہے کہ وہ مقام شہر ہے جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے مکلف لوگوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو شیخ ابوشجاع کہتے ہیں کہ ان تعریفات میں یہی حسن ہے ولوالواجیۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے بحر، وقایۃ، متن مختار  اور اس کی شرح میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے اور متن درر میں اسے ہی دوسرے قول پر مقدم کیا اور ظاہراً ترجیح اسی کو ہے، صدر الشریعہ نے اپنے اس قول سے تائید کی ہے کہ کیونکہ احکام شرع خصوصاً اقامت حدود میں سستی واقع ہو چکی ہے، ہر وہ جگہ جس پر یہ تعریف صادق آرہی ہو وہ شہر ہے اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ لازم ہے خواہ وہ قریہ کے نام سے متعارف ہو یا کسی اور نام سے، تو اب وہ مقام متاخرین کی تعریف کے مطابق حکم مصر میں شرعاً ہوگا نہ کہ عرفا اور یہی احسن ہے جس پر تعریف مذکور صادق نہ ہو وہ نہ شرعاً شہر ہے نہ عرفا( مخلصا جلد 8 صفحہ 432/ 433)


 اعلی حضرت امام احد رضا محدث بریلی رضی عنہ بہ التقوی تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آبادہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سماسکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کے لئے شہر سمجھی جائےگی ۔جس گاؤں میں یہ حالت پائ جائے اس میں اس روایت نادرہ کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذھب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذھب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے۔ اھ ملخصا( فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347)


 لہذا اگر اتنے مسلمان آباد ہوں کہ وہاں کی  بڑی مسجد میں نہ سماسکیں تو روایت نادرہ کی بنیاد پر جمعہ کی نماز  پڑھنے سے ہو جائے گی اور اس روز کی ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط ہو جائے گی ۔اور اگر  یہ صورت نہ ہو تو وہاں بنام جمعہ نماز نفل ہوگی عوام اگر اسے پڑھیں تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے اور جب بنام جمعہ دو رکعت نماز نفل ہوگی تو اس کے پڑھنے سے  ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط نہ ہو گی اس کا پڑھنا فرض اور جماعت کے ساتھ واجب الگ الگ پڑھنا گناہ۔


 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

"""""""""""""""""""""""""""""""""""""

کتبہ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ، اتر دیناجپور، بنگال

*مورخہ؛ ١٨ ربیع النور ١٤٤١ھ 16/11/2019*

*📞+918793969359*


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad