اَلسَّــلَامْ وَعَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟؟؟؟
حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمایں
سائل: ثقلین رضا
___________________
و عَلَيْكُم اَلسَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ہاتھ سے منی نکالنے میں روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب کہ منی خارج ہو اور اس سے صرف روزے کا قضا واجب ہے نہ کہ کفارہ۔اگر منی خارج نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اگر چہ یہ فعل سخت حرام ہے حدیث شریف میں ایسا کرنے والے کو ملعون فرمایا ہے۔
در مختار مع الرد المحتار میں ہے : وكذا الاستمناء بالكف اي في كونه لا يفسد لكن هذا اذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء "ترجمہ اسی طرح استمناء بالکف" کہ وہ روزے کو نہیں توڑتا جب تک انزال نہ ہوا ہو ، رہا جب انزال ہو تو اس پر قضا ہے
( باب ما یفسدالصوم مالا یفسدہ صفحہ 371)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : جامع فيما دون الفرج و لم ينزل لا يفسد صومه وان انزل في هذه الوجوه كان عليه القضاء دون الكفارة "ترجمہ: جس نے جماع کیا فرج کے علاوہ اور انزال نہ ہو تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا اور اگر انزال ہو تو اس پر قضا ہے نہ کہ کفار۔
( الباب الرابع فیما یسفد و ما یفسد صفحہ 205)*
ہدایہ میں ہے: من جامع فيما دون الفرج فأنزل فعليه القضاء لوجود الجماع معني ولا كفارة عليه لانعدامه صورة"۔ترجمہ اور جس نے فرج کے علاوہ جماع کیا پھر اس کو انزال ہو گیا تو اس پر قضا واجب ہے کیونکہ معنا جماع پایا گیا اور اس پر کفارہ واجب نہیں ہے کیونکہ صورةً جماع معدوم ہے۔
( کتاب الصوم صفحہ 220)
بہار شریعت جلد اول میں ہے: غیر سبیلین میں جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹے گا یوہیں ہاتھ سے منی نکالنے میں اگر چہ یہ سخت حرام ہے حدیث میں اسے ملعون فرمایا
( حصہ پنجم صفحہ 983)
والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم
______________
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی، خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ،اتردیناجپور، بنگال۔
*7 رمضان المبارک ۱۴۴۰ ھ بمطابق 13 مئی 2019 بروز پیر*
*📞+918793969359*
ا________🎤🥏🎤z_______