السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عدت کے اندر قاضی صاحب کا دوسرے کے ساتھ نکاح پڑھانا کیسا ہے اور وہ نکاح ہوا یا نہیں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
المستفتی : محمد زبیر عالم ، اتردیناجپور(بنگال) تاریخ 2019/11/15 ء
_____________________
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں قاضی صاحب کا عدت کے اندر نکاح پڑھانا ناجائز و حرام ہے اور نکاح نہیں ہوا خواہ جانتے ہوئے یا انجانے میں ہو کیونکہ وہ منکوحہ کے حکم میں ہے اور کسی کی منکوحہ سے نکاح جائز نہیں ہے
قرآن مجید میں ہے : "وَالْمُحْصِنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ " ترجمہ : اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں ( پارہ 5 سورہ نساء آیت 24)
دوسری جگہ ہے : "يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ الِّنسَآءِ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ "۔ ( پارہ 28 سورہ طلاق آیت 1)
تیسری جگہ ہے : "وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوْٓءِ" ۔ ( پارہ 2 سورہ بقرہ آیت 228)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: "لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة سوا كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح" ۔ (ج1 القسم السادس المحرمات التی یتعلق بھا حق الغیر صفحہ 280)
قاضی صاحب پر لازم ہے کہ وہ فوراً اعلان کر دے کہ نکاح نہیں ہوا ہو ہے اور ان دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے فوراً جدا ہو جائیں اور جو لوگ اس صورت حال سے آگاہ ہوکر شریک ہوئے اور قاضی صاحب نے نکاح پڑھایا وہ سب سخت گناہ گاہ اور مستحق عذاب نار ہیں ان سب پر اعلانیہ توبہ واستغفار لازم ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
______________________
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سونا پور، اتردیناجپور، بنگال
*21/ ربیع الاول 1441ھ
19/ نومبر 2019ء *
https://wa.me/+918793969359
