قرآن مجید میں ہے: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْن ۔ ترجمہ: پھر تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو، وہ اور دنوں میں گنتی پوری کر لے اور جو طاقت نہیں رکھتے، وہ فدیہ دیں۔ایک مسکین کا کھانا پھر جو زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمھارے لیے بہتر ہے، اگرتم جانتے ہو۔ ( پارہ2 سورہ بقرہ آیت 184)
بحر الرائق فی شرح کنز الدقائق میں ہے : الشيخ الفانى وهو يفدى۔ یعنی شیخ فانی کے لئے فدیہ ادا کرے(ج 2کتاب الصوم صفحہ 70)قدوری میں میں ہے : والشيخ الفانى الذى لا يقدر على الصيام يفطر و يطعم لكل يوم مسكينا كلما يطعم فى الكفارات۔ ترجمہ:اور بہت بوڑھا شخص جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو وہ افطار کرےاور ہر دن ایک مسکین کو اتنا کھانا کھلائے جتنا کفارات میں کھلایا جایاکرتا ہے(کتاب الصوم صفحہ 273)۔
\فتاویٰ رضویہ: فدیہ صرف شیخ فانی کے لئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کے لئے فدیہ کا حکم ہے، ایک روزہ یا ایک نماز کا فدیہ یا کفارہ میں ایک مسکین کی خوراک یا ایک شخص کا صدقہ فطر یہ سب گیہوں سے نیم صاع اور جَو سے ایک صاع ہے۔ صاع دوسو ستر ۲۷۰ تولے ہے ،نیم صاع ایک سو پینتیس ۱۳۵ تولے۔ تولہ بارہ۱۲ ماشہ، ماشہ آٹھ ۸ رتی، رتی آٹھ چاول۔انگریزی روپیہ سکّہ رائجہ سو گیارہ ماشے ہے۔(ماخوذجلد 10صفحہ 520/25)۔
