تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Huzur sallallahu alaihi wasallam ko ulome gaiub ata hoye esme Koch istisna hai ya nahi____حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علومِ غیوب عطا ہوے اس میں کچھ استثناء ہے یا نہیں؟

0

Huzur sallallahu alaihi wasallam ko ulome gaiub ata hoye esme Koch istisna hai ya nahi

 

‭‮‭‮


السلام علیکم
مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض علومِ غیوب عطا ہوے اس میں کچھ استثنا ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا کیا ہے
برائے کرم جواب عطا فرمائے

سائل : محمد مجسم رضا مرادآبادی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو روز اول سے یوم آخر تک تمام کائنات کا علم عطا فرمائے اس میں سے کچھ بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ 
فتاویٰ رضویہ میں ہے : بے شمار علوم غیب جو مولی عزوجل نے اپنے محبوب اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عطا فرمائے آیا وہ روزِ اوّل سے یومِ آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔حدیث صحیح جامع ترمذی جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :" تجلّٰی کل شیئ وعرفتُ " ترجمہ : ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی ۔اور فرمایا : علمت ما فی السمٰواتِ وما فی الارض۔ ترجمہ:میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔(۵۱) شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :دانستم ہر چہ در آسما نہا و ہر چہ در زمینہا بود عبارت ست از حصول تمامہ علوم جزئی و کُلی واحاطہ آں۔ "میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا" اس حدیث میں تمام علوم جزی و کلی کے حاصل ہونے اور ان کے احاطہ کرنے کا بیان ہے۔
(۵۲) امام محمد بوصیری قصیدہ بردہ شریف میں عرض کرتے ہیں۔فان من جودک الدنیا وضرتھا،ومن علومک علم اللوح والقلم یا رسولﷲ !دنیا وآخرت دونوں حضور کی بخشش سے ایک حصہ ہیں اور لوح و قلم کا علم (جس میں تمام ماکان و مایکون ہے) حضور کے علوم سے ایک ٹکڑا ہے۔(۵۳) علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں :کون علمھما من علومہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق و دقائق وعوارف ومعارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھما یکون سطرامن سطور علمہ ونھراً من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔لوح و قلم کا علم علومِ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم متعدد انواع ہیں کلیات، جزئیات، حقائق دقائق، عوارف اور معارف کہ ذاتِ و صفاتِ الہٰی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت و جود سے تو ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔(۵۴) ام القرٰی شریف میں ہے :وسع العٰلمین علماً و حلماً۔حضور کا علم و حلم تمام جہان کو محیط ہے۔(۵۵) امام ابن حجر مکی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :لان ﷲ تعالیٰ اطلعه علی العالم فعلم علم الاولین والاخرین ماکان ومایکون۔اس لیے کہﷲ تعالیٰ نے حضور کو تمام عالم پر اطلاع دی، تو سب اولین وآخرین کا علم حضور کو ملا جو ہو گزرا اور جو ہونے والا ہے سب جان لیا۔(۵۶ و ۵۷) نسیم الریاض میں ہے :ذکر العراقی فی شرح المھذب انه صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عرضت علیه الخلائق من لدن اٰدم علیه الصلوۃ والسلام الٰی قیام الساعة فعرفھم کلّھم کما علم اٰدم الاسماء۔امام عراقی شرح مہذب میں فرماتی ہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیامت تک کی تمام مخلوقات الہٰی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عرض کی گئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب کو پہچان لیا جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام تعلیم ہوئے تھے (۵۸) اسی لیے امام بوصیری مدحیہ ہمزیہ میں عرض کرتے ہیں : علک ذات العلوم من عالم الغیب ومنہا لاٰدم الاسماء۔ عالم غیب سے حضور کے لیے علوم کی ذات ہے اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے نام۔(۵۹ و ۶۰)امام ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں : قد قال علماؤ نار حمھم ﷲ تعالیٰ ان الزائر یشعر نفسه بانه واقف بین یدیه صلی اللہ تعالیٰ علیه وسلم کما ھو فی حیاته اذ لا فرق بین موته وحیاته صلی اللہ تعالیٰ علیه وسلم اعنی فی مشاھدته لامته و معرفته باحوالھم ونیّا تھم وعزائمھم وخواطرھم وذٰلک عندہ، جلی لا خفاء فیه۔بے شک ہمارے علماء رحمہمﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ زائر اپنے نفس کو آگاہ کردے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے جیسا کہ حضور کی حیاتِ ظاہر میں، اس لیے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، نیتوں ، ارادوں اور دل کےخطروں کو پہچانتے ہیں، اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔(۶۱) نیز مواہب شریف میں ہے :لاشک ان ﷲ تعالیٰ قد اطلعه علٰی ازید من ذٰلک والقی علیه علوم الاولین والاخرین ۔کچھ شک نہیں کہ بلاشبہ ﷲ تعالیٰ نے اس سے بھی زائد حضور کو علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور پر القا فرمایا۔(۶۲ تا ۶۴) امام قاضی پھر علامہ قاری پھر علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر امام سیوطی ہیں لکھتے ہیں :النفوس القدسیة اذا تجردت عن العلائق البدنیة اتصلت بالملاء الا على ولم یبق لھا حجاب فتری و تسمع الکل کالمشاھد ۔پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں، ملاء اعلٰی سے مل جاتی ہیں اور ان کے لیے کچھ پردہ نہیں رہتا تو سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں موجود ہیں۔(۶۵) ملا علی قاری شریف شفاء شریف میں فرماتے ہیں :ان روح النبی صلی اللہ تعالیٰ علیه وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روحِ کریم تمام جہان میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔(۶۶) مدارج النبوۃ شریف میں ہے :ہر چہ در دنیا است از زمانِ آدم تا اوان نفخہ اولٰی بروے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منکشف ساختند تاہمہ احوال اورا از اول تا آخر معلوم کرد ویارانِ خود رانیز از بعضے ازاں احوال خبر داد ۔جو کچھ دنیا میں ہے آدمی علیہ السلام کے زمانے سے نفخہ اُولٰی تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر منکشف کردیا ہے یہاں تک کہ تمام احوال آپ کو اول سے آخر تک معلوم ہوگئے ان میں سے کچھ اپنے دوستوں کوبھی بتادیئے۔(۶۷) نیز فرماتے ہیں قدس سرہ :وھو بالکل شیئ علیم و وے صلی اللہ تعالیٰ علیه وسلم دانا ست برہمہ چیز از شیونات ذات الہٰی و احکام صفات حق واسماء وافعال وآثار بجمیع علوم ظاہر و باطن اول و آخر احاطه نمودہ و مصداق " فوق کل ذی علم علیم" شدہ، علیه من الصلوات افضلہا و من التحیات اتمّہا و اکملہا۔وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے" اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام چیزوں کو جانتے ہیں،ﷲ کی شانوں اور اس کے احکام اور صفات کے احکام اور اسماء و افعال و آثار ہیں، اور تمام علوم ظاہر و باطن، اول و آخر کا احاطہ کرلیا اور " فوق کل ذی علم علیم " کا مصداق ہوگئے، ان پر ﷲ کی بہترین رحمتیں ہوں اور اتم و اکمل تحیات ہوں۔(۶۸) شاہ ولی ﷲ صاحب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں :افاض علیّ من جنابه المقدس صلی اللہ تعالیٰ علیه وسلم کیفیة ترقی العبد من حیّزہ الٰی حیّز القدس فیتجلّی له جینئذٍ کل شیئ کما اخبرعن ھذا المشھد فی قصة المعراج المنامی۔مجھ پر رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے فائض ہوا کہ بندہ کیونکر اپنی جگہ سے مقامِ مقدس تک ترقی کرتا ہے کہ ہر شے اس پر روشن ہوجاتی ہے جیسا کہ قصّہ معراج کے واقعہ میں رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس مقام سے خبر دی۔(۶۹) نیز اسی میں ہے :العارف ینجذب الٰی حیزّ الحق فیصی عبد ﷲ فتجلّٰی له کل شیئ۔عارف مقامِ حق تک کھنچ کر بارگاہِ قرب میں ہوتا ہے تو ہر چیز اس پر روشن ہوجاتی ہے۔ (مخلصا جلد 29 صفحہ 453/458)۔_

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی سوناپور، اتردیناجپور، بنگال۔
*1 /صفر المظفر 1442ھ*
*19/ستمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad