تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

I P L mech kha TV ya mobail wagaira me dekhna kaisa-------آئی پی ایل ( I P L ) میچ خواہ ٹی(TV) یا موبائل وغیرہ میں دیکھنا کیسا ہے؟

0

I P L mech kha TV ya mobail wagaira me dekhna kaisa------

 

آئی پی ایل ( I P L ) میچ خواہ ٹی(TV) یا موبائل وغیرہ میں دیکھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ اس مسئلے کے بارے میں کہ آئی پی ایل ( I P L ) میچ خواہ ٹی(TV) یا موبائل وغیرہ میں دیکھنا کیسا ہے

المستفتی : بندہئہ خدا 
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
آئی پی ایل ( I P L ) یا اس طرح کا کوئی بھی کھیل اگر لہو ولعب کے طور پر کھیلے تو حرام و گناہ ہے جس طرح کھیلنا حرام ویسے ہی دیکھنا بھی حرام گناہ ہے خواہ وہ ٹی(TV) 
یا موبائل وغیرہ میں دیکھے۔  
قرآن مجید میں ہے :وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ۔ ترجمہ :اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنا لیں،ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔(پارہ 21 سورہ لقمان آیت 6) ترمذی شریف میں ہے: عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة، صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به، وقال: ارموا و اركبوا، ولان ترموا احب إلي من ان تركبوا، كل ما يلهو به الرجل المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتاديبه فرسه، وملاعبته اهله، فإنهن من الحق ".ترجمہ: عبداللہ بن عبد الرحمٰن ابن ابی الحسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“، آپ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں“۔( کتاب فضائل الجہاد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، باب ما جاء فی فضل الرمی فی سبیل اللہ حدیث 1637) (سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد، باب الرمی فی سبیل اللہ حدیث 2811)۔

در مختار مع ردالمحتار میں ہے: و كره تحريما اللعب بالنرد و كره كل لهو لقوله عليه السلام " كل لهو المسلم حرام إلا ثلثة اى كل لعب و عبث و الاطلاق شامل لنفس الفعل و استماعه و استماع ضرب الدف و المزمار و غير ذالك حرام.(ج 9ملخصا کتاب الحظر و الاباحة باب الاستبراء  صفحہ 566 / 565)۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 
حضــرت علامــہ ومــولانا مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی صــاحــب قبلــہ مدظلــہ العالــی والنــورانــی۔خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردینا جپور، بنگال الہند۔
*21 / محرم الحرام 1442ھ*
*10/ستمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad