Do baitiun do bhaiun ko tin lakh tarka me se kis ko kitna kitna hissa mile ga???
دو بیٹیوں ، دو بھائیوں کو تین لاکھ ترکہ میں سے کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟؟؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں۔ علماء کرام اس مسئلہ میں کہ، عبدالرزاق صاحب کا انتقال ہوگیا، اور انکے تمام لین دین ادا کرنے کے بعد،- 3لاکھ کی زمین ہے،جس کو فروخت کر حصہ تقسیمِ کرنا ان کے وارثین میں بیٹا نہیں ہیں-
صرف دو بیٹی اور دو بھائی ہیں جاننا یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کو کتنا روپیہ حصہ ہوگا، اور بیٹیوں کو کتنا روپیہ حصہ ہوگا،
برائے کرم جواب عنایت فرمائیں،
سائل : محمد حسین مدھوبنی بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پوری جائداد کو چھ حصے کریں دو بیٹیوں کو چار (4) حصے یعنی ہر ایک بیٹی کو دو دو کر کے، دو بھائیوں کو دو (2) حصے یعنی ہر ایک بھائی کو ایک ایک کر کے ملیں گے۔قرآن مجید میں ہے
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ فَإنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۔ ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیوں ہوں اگر چہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی۔
(پارہ4 سورہ نساء آیت11)
سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ۔
( سراجی ص 21 )
ایک دوسرے مقام پر صاحب سراجی رقم فرماتے ہیں :ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ۔
( سراجی ص 30 )
لہذا 300,000 کا ترکہ میں سے دو بیٹیوں کو، 200,000 روپے ملے گا، یعنی ہر ایک بیٹی کو 100,000 کر کے ملے گا۔ اور دو بھائیوں کو 100,000 روپے ملے گا یعنی ہر ایک بھائی کو 50,000 کر کے ملے گا۔
واللہ تعالی اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور، بنگال۔
*🗓 ۱۵ جنوری ۲۰۲۰ ء مطابق ۱۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ بروز بدھ* https://wa.me/+918793969359
اــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ــــــــــــــــــــــــ