السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین اگر کوئی تجارت کر رہا ہے پھول کا تو اسکے پاس ہر قسم کے لوگ آڈر دے رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایک غیر مسلم نے مورتی کو ہار پہنانے کے لیے آڈر دیا اور اس نے بناکر دے دیا اور اجرت لے لیا تو اس کا اجرت لینا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں
سائل ؛ حافظ محمد شہباز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں پھول کی تجارت کرنا شرعاً جائز ہے جبکہ نیت یہ رکھتے ہو کہ یہ ایک تجارت ہے اور اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے ورنہ نہیں
الاشباہ والنظائر میں ہے؛
الأمور بمقاصدها وذكر قاضي خان في فتاواه أن بيع العصير ممن يتخذه خمرا ،أن قصد به التجارة لا يحرم ، أن قصد به لأجل التخمير حرم ۔
( القاعدۃ الثانیۃ صفحہ 23 )
واللہ تعالیٰ اعلم
"""""""""""""""""""""""""""""""
کتبہ؛ حضرت مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی ،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن ؛ نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور، بنگال
*مورخہ؛ ٢٤/ ٥ /١٤٤١ھ دوشنبہ 20/01/2020*
https://wa.me/+918793969359