اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ،،،،،، سوال اگر حالت نماز میں سر سے ٹوپی گِر جاے تو کیا کرے کیا بغیر ٹوپی کے نماز پڑھے یا حالت نماز میں ٹوپی اٹھاے پھر نماز پڑھے
سائل: محمد اصغر علی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں نماز کے درمیان اگر حالت نماز میں سر سے ٹوپی گِر جائے تواس کو اٹھا لینا افضل ہے جبکہ عمل کثیر کی حاجت نہ پڑے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور بار بار اُٹھانا پڑے تو چھوڑ دے ۔ عمل کثیر وہ ہے کہ نماز میں کام کرنے والے کو دور سے دیکھنے سے ایسا لگے کہ یہ نماز میں نہیں ہے بلکہ غالب گمان بھی ہو کہ نماز میں نہیں ہے تو وہ عمل کثیر ہے۔
در مختار مع ردالمحتار میں ہے :مالا یشک الناظر من بعيد فى فاعله انه لیس فیھا التفویض الی رأي المصلی فان استکثرہ فکثر والا قلیل لان مایقام بالیدین عادة یغلب ظن الناظر انه لیس فی الصلاۃ۔
( ج 1 کتاب الصلاۃ باب یفسد الوصلاۃ ما یکرہ فیہا صفحہ 385)*
الاشباہ و النظائر میں ہے : ومن ذلک العمل المفسد للصلاۃ مفوض الی العرف لو کان بحیث لو راء یظن انه خارج الصلاۃ۔
(القاعدۃ السادسۃ صفحہ 78/79)*
درمختار مع ردالمختار میں ہے: ولو سقطت قلنسوته فاعاتھا افضل الا اذا احتاجت لتکویر اوعمل کثیر والظاھر ان افضلیة اعادتھا حیث لم یقصد بترکھا التذلل۔
(ج2 کتاب الصلاۃ باب ما یفسد صفحہ 408) *
بہار شریعت جلد اول میں ہے: جس کام کے کرنے والے کو دور سے دیکھ کراس کے نماز میں نہ ھونے کا شک نہ رہے بلکہ گمان غالب ہوکہ نماز میں نہیں تووہ عمل کثیر ہےاور اگردورسے دیکھنے والے کو شبہ وشک ہوکہ نماز میں ہےیا نہیں تو عمل قلیل ہے۔
(مفسدات نماز کا بیان حصہ 3 صفحہ 609 )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ ،اتر دیناجپور، بنگال۔
*2/ جمادی الاولی 1441ھ
29/ دسمبر 2019ء *
https://wa.me/+918793969359