تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Masij ki dosri manzil par atekaf karna kaisa hai... مسجد کی دوسری منزل پر اعتکاف کرنا کیسا ہے؟

0


Masij ki dosri manzil par atekaf karna kaisa hai... مسجد کی دوسری منزل پر اعتکاف کرنا کیسا ہے؟

 

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ 


کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع اس مسئلے میں 

 زید مسجد کی دوسری منزل پر رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کرتا ہے معلوم یہ کرنا ہے کی کیا زید کا مسجد کی دوسری منزل پراعتکاف کرنا درست ہے  جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عطا کریں   

سائل :-----  محمد صادق نوری قاضی پلاسیہ اندور ایم پی

ــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب 

صورت مذکورہ میں زید کو  نیچے ہی اعتکاف کرنا ضروری ہے اور نیچے خالی جگہ رہتے ہوئے مسجد کی دوسری منزل پر اعتکاف مکروہ ہےلیکن جب مسجد کا نچلا حصہ پر ہو جائے ( یعنی جگہ خالی نہ ہو ) تو اوپر اعتکاف کرسکتے ہیں۔

ردالمحتار میں ہے: "ثم رأيت القهستاني نقل عن المفيد كراهة الصعود على سطح المسجدو يلزمه كراهة الصلاة فوقه "(ج 2 کتاب الصلاۃ مطلب فی احکام المسجد  صفحہ 428)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے: "الصعود على سطح كل مسجد مكروه ولهذا اذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لايكره الصعود على سطحه للضرورة" ترجمہ:  ہر مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے،اور اسی وجہ سے شدت گرمی میں مسجد کے اوپر جاکر جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر مسجد تنگ ہو اور مصلے نیچے نہ سمائیں تو ضرورت کی وجہ سے اس کی چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں ہے (ج 5 کتاب الکراہۃ  باب في آداب المسجد صفحہ 322) 

فتاویٰ رضویہ میں ہے: اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں مکروہ ہے کہ مسجد کی بے ادبی ہے،ہاں اگر مسجد جماعت پر تنگی کرے نیچے نہ رہے تو باقی ماندہ لوگ چھت پر صف بندی کرلیں یہ بلا کراہت جائز ہے کہ اس میں ضرورت ہے ( جلد 8 صفحہ 57)اسی میں ہے: اس سقف پر بلا ضرورت نماز کی اجازت نہیں کہ سقف مسجد پر  بے ضرورت چڑھنا ممنوع و بے آدبی ہے اور گرمی کا عذر مسموع نہ ہو گا ہاں کثرت جماعت کہ طبقئہ زیریں کے دونوں درجے بھر جائیں اور لوگ باقی رہیں تو سقف پر اقامت نماز کی اجازت ہوگی ( جلد 16 صفحہ 249)

بہار شریعت جلد سوم میں ہے : مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے گرمی کی وجہ سے مسجد کی چھت پر جماعت کرنا مکروہ ہے ہاں اگر مسجد میں تنگی ہو نمازیوں کی کثرت ہو تو چھت پر نماز پڑھ سکتے ہیں جیساکہ ممبئی اور کلکتہ میں مسجد کی تنگی کی وجہ سے چھت پر بھی جماعت ہوتی ہے ( حصہ 16 صفحہ 499)


والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

 حضــرت علامــہ ومــولانا مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی صــاحــب قبلــہ مدظلــہ العالــی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردینا جپور، بنگال الہند،

*13/ رجب المرجب 1441 ھ 

9/مارچ 2020ء *

 8793969359📞

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad