السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ زید کہتا ہے کہ صبح اذان دینے سے شام تک اس جگہ عذاب نہیں آتا ہے اور شام میں دینے سے صبح تک نہیں آتا ہے کیا اس طرح زید کا کہنا درست ہے یا نہیں۔ رہنمائی فرماکر شکریہ کا موقع دیں
المستفتی : عبد اللہ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
ہاں زید کا کہنا درست ہے جیساکہ کتب میں مصرح ہے
فتاویٰ رضویہ میں ہے: اذان ذکرِ الٰہی اور ذکرِ الٰہی دافعِ عذاب، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ما من شیئ انجی من عذاب اللّٰه من ذکر اللّٰه . رواہ الامام احمد عن معاذبن جبل وابن ابی الدنیا والبیھقی عن ابن عمر رضی اللّٰه تعالٰی عنهم۔ کوئی چیز ذکرِ خدا سے زیادہ عذابِ خدا سے نجات بخشنے والی نہیں۔ اسے امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی کے الفاظ عبداللہ ابن عمر سے یوں ہی مروی ہیں جبکہ احمد بن حنبل کے الفاظ معاذ بن جبل سے یوں مروی ہیں:ماعمل آدمی عملاقط انجی له من عذاب اللّٰه من ذکراللّٰه الخ : اور خود اذان کی نسبت وارد، جہاں کہی جاتی ہے وہ جگہ اُس دن عذاب سے مامون ہوجاتی ہے، طبرانی معاجیم ثلٰثہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اذا اذن فی قریة امنھا اللّٰه من عذابه فی ذلک الیوم ۔وشاھدہ عندہ فی الکبیر من حدیث معقل بن یسار رضی اللّٰہ تعالٰی عنه۔ جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالٰی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے اور اس کی شاہد وہ روایت ہے جو معجم کبیر میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ (جلد 5 صفحہ665 )
اسی میں ہے : مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرالمومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہه الکریم سے مروی: قال راٰنی النبی صلی اللّٰه تعالٰی علیه وسلم حزینا فقال یاابن ابی طالب انی اراک حزینا فمر بعض اھلک یؤذن فی اذنک فانه درء الھمّ ۔ یعنی مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہُوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔ ( جلد 5 صفحہ668 )
لہذا اذان ہر وقت دنیا چاہئے خواہ دافع بلا یا غم وپریشانی میں زیادہ دینا چاہئے
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضــرت مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی صــاحــب قبلــہ مدظلــہ العالــی والنــورانــی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردینا جپور بنگال الہند،
*19/ شعبان المعظم 1441ھ*
*14/ اپریل 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
