کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام
مسئلے ذیل کے بارے میں۔۔۔
بہت سارے لوگ بہار و بنگال اور بھی دوسری جگہ کے گاؤں دیھات سے ممبئ، دہلی اور بھی ایسے ھی بڑے شہر میں آکر کام کررہے ہیں یا کوئی گھومنے پھرنے آیا تھا جیسا کہ ابھی ''کرونا وائرس''جیسی بیماری کی وجہ سے ''لاک ڈاؤن'' چل رہا ھے جسکی وجہ سے لوگوں کے پاس کھانے پینے کی قلت ہے حالاکہ گھر میں مالی حالت اچھی ہے صاحب نصاب بھی ہیں ۔۔
اب سوال یہ ھیکہ ایسے حالات میں زکوة کا روپیہ لینا ؟؟؟
یا زکوة کے روپیے کا راشن لینا ؟؟؟
(جو کمیٹی والے لوگ بانٹتے ھیں )
یا کمیتی کی طرف سے جو زکوة کے روپیہ سے پکایا ھوا کھانا بانٹتے اسکا لینا ؟؟
کیا جائز و درست ھے ؟؟؟
حالات کے مد نظر جوب عنایت عطاء فرمائیں ۔۔
جیسے گھر والےروپیہ بینک میں لگا دیں
لیکن پولس کی وجہ سے باہر نکلنا بھی مشکل ہے ۔۔
کئی علاقے میں سوپر لاک ڈاؤن ہے راشن بھی نہیں مل رہا ہے ۔۔۔
۔ 2 کیا تراویح کی نماز مرد و عورت سب پڑھیں ؟؟
۔3 کیا ایسے ''لاک ڈاؤن'' کی حالت مردو کو گھر میں تراویح کی نماز پڑھنا ضروری ہے ؟؟؟
۔4 اگر ''لاک ڈاؤن'' رمضان کے آخری ایام تک ختم نہیں ھوا تو مردو کے لیئے اعتکاف کا کیا حکم ہے ؟؟؟
ان سوالو کا جواب اگر تھوڑا جلدی مل جاے تو بہتر کرم ھوگا ۔۔۔۔
المستفتی :ایم زاھد رضا پروانہ رامگنج الواباڑی،
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
زکوٰۃ کے مستحقین غرباء ومساکین وغیرہ ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے : اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَاوَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْم ۔ترجمہ : صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور ﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ ﷲ (عزوجل)کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور ﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔ ( پارہ 10 سورہ توبہ آیت 60)
انہیں میں سے ایک ابن سبیل ہے جس کی واضحت عام کتب میں اس طرح کی ہے کہ ابن السّبیل یعنی مسافر جس کے پاس مال نہ رہا زکاۃ لے سکتا ہے، اگرچہ اُس کے گھر مال موجود ہو مگر اُسی قدر لے جس سے حاجت پوری ہو جائے، زیادہ کی اجازت نہیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ( و منها ابن السبيل ) وهو الغريب المنقطع عن ماله كذا في البدائع . جاز الأخذ من الزكاة قدر حاجته ولم يحل له أن يأخذ اكثر من حاجته( ج1،کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، صفحہ 188)
فتاویٰ رضویہ میں ہے : چہارم حوائج سے بھی فارغ ہو مگر اسے دسترس نہیں، جیسے ابن السبیل یعنی مسافر جس کے پاس خرچ نہ رہا، تو بقدرِ ضرورت زکوٰۃ لے سکتا ہے ، اس سے زیادہ اُسے لینا روانہیں۔ ( جلد 10 صفحہ 110)
لہذا جو حضرات لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے جگہوں پر نہ جاسکیں وہ اپنی ضرورت کو پوری کرنے کے لئے اسے جو سامان دیں مثلاً راشن، چاول وغیرہ اگر چہ وہ زکوٰۃ کا کیوں نہ ہو وہ لے سکتے ہیں اتنا ہی لےجس سےضرورت پوری ہوجائے اس سے زیادہ نہ لیں
(2، 3)
ہاں تراویح کی نماز مردوں عورتوں پر سنت مؤکدہ ہے بلا عذر شرعی چھوڑنا کراہت ہے لیکن اصح قول کے مطابق سنت کفایہ ہے، اگر تمام اہل مسجد نے اسے ترک کیا توگنہگار ہوں گے اور اگربعض نے ترک کیا تو گنہگار نہ ہوں گے
لہذا موجودہ حالات میں کثرت تعداد مصلی کی وجہ سے قانونی لپیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا ہونا پڑے یا حرج میں مبتلاء ہونے کا قوی اندیشہ ہو ،ایسی صورت میں جتنے افراد کی گرمینٹ کی طرف سے اجازت ہو اتنی ہی پر اکتفاء کی جائےاور باقی لوگ اپنے اپنے گھروں میں تین یا چارآدمی باجماعت تراویح یا تنہا تنہا پڑھیں
(4)
اگر لاک ڈاؤن آخری رمضان تک ختم نہ ہوتو اعتکاف عشرہ اخیرہ میں سنت مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے،اگر ایک نے بھی کرلیا تو سب بری الذمہ ہے اگر ایک بھی نہ کیا ہو تو سب گناہ گار ہوں گے۔ اہل محلہ یا اہل شہر میں سے ایک دو آدمی مسجد میں اعتکاف کر لیں ۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اعتکاف عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے ( جلد 10 صفحہ 655/654)
لہذا موجودہ حالات میں کثرت تعداد کی وجہ سے قانونی لپیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا ہونا پڑے یا حرج میں مبتلاء ہونے کا قوی اندیشہ ہو ،ایسی صورت میں جتنے افراد کی گرمینٹ کی طرف سے اجازت ہو اتنی ہی پر اکتفاء کی جائے
۔ھذا ما ظھر لی والعلم عنداللہ ورسولہ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضــرت علامــہ ومــولانا مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی صــاحــب قبلــہ مدظلــہ العالــی والنــورانــی،خادم سعدی دارالافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردینا جپور، بنگال الہند،
*19/ شعبان المعظم 1441ھ*
*14/ اپریل 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
