تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Naik kam ejad karne wale ko kitna sawab milta hai, aur bure ejad karne wale ko kitna guna milta hai---نیک کام ایجاد کرنے والے کو کتنا ثواب ملتا ہے اور برے کام ایجاد کرنے والے کو کتنا گناہ ملتا ہے؟؟؟ ؟

0

Naik kam ejad karne wale ko kitna sawab milta hai, aur bure ejad karne wale ko kitna guna milta hai??

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ ایک موبائل سے دوسرے موبائل میں فلم یاگانا یا فحش چیزیں بھیجنے والا  کو اتنا گناہ ملے گا جتنا دیکھنے والوں کو ملتا ہے اور بکر کہتا ہے کہ نہیں صرف فلم دیکھنے والے کو ملے گا شرع کی نظر میں کون حق پر ہے جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں

المستفتی : ساحل ممبئی

 〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

برے کام کرنے والے کو جتنا گناہ ملے گا اتنا گناہ ایجاد کرنے والے کو ملے گا اور یہ قرآن و احادیث میں مصرح ہے صورت مسئولہ میں فلم یاگانا یا فحش چیزیں دیکھنے والے کو جتنا گناہ ملے گا اتنا گناہ بھیجنے والے کو ملے گا زید حق پر ہے اور بکر کا کہنا غلط ہے لوگوں کو چاہئے کہ دوسرے کی وجہ سے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا نہ ہو اور آئندہ مذکورہ چیزوں کو نہ بھیجنے پر عہد کرے اور توبہ واستغفار کرے۔


اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :و لا تعاون على الإثم والعدوان (پارہ6 سورہ مائدہ آیت 2)۔‏‏‏‏دوسری جگہ ہے: من احسن قولا ممن دعا الي الله۔ ترجمہ: اس سے کس کی بات بہتر جو اللہ کی طرف بلائے(پارہ 24 حم السجدۃ آیت 33)۔تیسری جگہ ہے : ومن أوزار الذين يضلونهم‏ الخ : ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جس کو بےعلمی کی وجہ سے گمراہ کر رہے ہیں۔ (پارہ 14سورة النحل آیت 25) 


صحيح بخاري میں ہے: حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" ليس من نفس تقتل ظلما إلا كان على ابن آدم الاول كفل منها"، وربما قال سفيان: من دمها لانه اول من  سن القتل اولا۔ ترجمہ:ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مروہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا)ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی (كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ، بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً )


صحيح مسلم میں ہے : حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير بن عبد الحميد ، عنالاعمش ، عن موسى بن عبد الله بن يزيد ، عن عبد الرحمن بن هلال العبسي ، عن جرير بن عبد الله ، قال: جاء ناس من الاعراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم الصوف، فراى سوء حالهم قد اصابتهم حاجة، فحث الناس على الصدقة، فابطئوا عنه حتى رئي ذلك في وجهه، قال: ثم إن رجلا من  الانصارجاء بصرة من ورق، ثم جاء آخر، ثم تتابعوا حتى عرف السرور في وجهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها، بعده كتب له مثل اجر من عمل بها، ولا ينقصمن اجورهم شيء، ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها، بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ولا ينقص مناوزارهم شيء " ترجمہ : سیدنا جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات)اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا

اسی میں ہے : حدثنا  يحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل يعنون ابن جعفر ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليهوسلم، قال:"  من دعا  إلى  هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه، لا ينقص ذلك من اجورهم شيئا،  ومندعا  إلى  ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا" ترجمہ:‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو ہدایت پر چلنے والون کا بھی ثواب ملے گا اور چلنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ہو گا اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس کو گناہ پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہو گا اور چلنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہوگا۔“(كِتَاب الْعِلْمِ، باب مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلاَلَۃٍ)


 واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضــرت مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردینا جپور ،بنگال الہند،۔

*9/ ریبع الاخر 1441ھ* 

*7/ دسمبر 2019ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad