السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہے کہ میرے گھر میں 9 تولہ سونا ہے اور مجھے پر اسی ہزار قرض ہے تو مجھے پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد ذاکر حسین
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں جس کی ملکیت میں سونا ہے اور اسی پر اسی ہزار قرض ہے اگر سونے کی قیمت اتنی زیادہ ہےکہ قرض نکال کر نصاب باقی رہے جاتا ہے ، خواہ وہ خودہی بنے یا دوسرے اموال زکوٰۃ کے ساتھ ملا کرتو زکوٰۃ فرض ہے ورنہ اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
درمختار میں ہے:لا زکوٰۃ علی مدیون للعبد بقدر دینه فیزکی الزائد ان بلغ نصابا۔ بندہ کے قرضدار پر قرض کی مقدار پر زکوٰۃ نہیں ، ہاں اگر قرض سے زائد نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس کی زکوٰۃ ادا کرے( ج 3کتاب الزکاۃ صفحہ 176)اُسی میں ہے :فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد سواء کان ﷲ تعالیٰ کزکوٰۃ وخراج او للعبد الخ۔اس دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہے خواہ وُہ ﷲکے لیے ہو مثلاً زکوٰۃ و خراج یا بندے کے لیے الخ ۔( ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ 176)
بہار شریعت جلد اول میں ہے: مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ ( حصہ 5 صفحہ 878)_
لہٰذا زیورات جس کی ملکیت میں ہے اور اس پر قرض نہیں ہے تو ان زیورات کی زکوٰۃ فرض ہے
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*5/ رمضان المبارک 1441ھ*
*29/ اپریل 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Masha allah
ReplyDelete