السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ســـــــوال کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے جو دو انگوٹھی پہنتا ہو؟نیز موجودہ پیمانے کے حساب سے کتنے وزن کا چاندی کا انگھوٹھی پہن کر نماز
پڑھ سکتے ہیں تفصیل سے جواب عنایت فرماکر مشکور ہوں
المستفتی : وصی اللہ فیضی ساکن رموا پور بیروا ایس نگر
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجـــــــــواب بتوفیق اللہ : صورت مسئولہ میں مرد کو ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی ایک چاندی کی انگوٹھی ایک نگ کی پہننا جائز ہے دو (2) یا دوسے زیادہ نگ حرام ہے اور جو چیز مکروہ ہو اسے پہن کر نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔ ردالمحتار میں ہے : إنما يجوز التختم بالفضة لو على هيئة خاتم الرجال أما لو له فصان أو أكثر حرم۔
ترجمہ : چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے بشرطیکہ مردانہ انگوٹھیوں کی شکل وصورت پر ہو ( نیز اس کا ایک نگینہ ہو) اگر دو یا زیادہ نگینے ہوں تو حرام ہے ( ج9کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی اللبس صفحہ521 )
فتاویٰ رضویہ میں ہے : مرد کو ساڑھے چار ماشے سے کم (چار گرام چھ سو پینسٹھ ملی گرام ساٹھ میکرو ملی گرام) وزن کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی پہننا جائز ہے دو یا زیادہ نگ حرام کہ زیورِ زنان ہو گیا ہے اور مکروہ چیز پہن کر نماز بھی مکروہ ۔ ( مخلصا جلد 22/24 صفحہ 130/544)
درمختار مع ردالمحتار میں ہے : كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها تلك الكراهة كراهة تحريم تجب إعادتها ( ج 2 باب صفۃ الصلاۃ صفحہ 147/148)
لہذا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اگر پڑھ لی تو واجب الاعادہ ہے.
واللہ اعلم بالصوابـ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی ،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
30 شوال المکرم 1440ھ
بمطابق ء4/7/19
_*بتاریخ 04 جولائی بروز جمعرات 2019 عیسوی*_

