طلاق شدہ عورت کے بچوں کا حقدار کون ہے شوہر یا بیوی ؟؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
مکرمی ایک سوال موصول ہوا ہے مگر میں اس وقت بستر علالت پہ ہوں جس کی وجہ سے جواب نہیں لکھ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دیا ہے ان کا ایک پانچ سالہ بچہ ہے عورت بچہ رکھنا چاہتی ہے اور زید بھی بچہ کا مطالبہ کر رہا ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ بچہ کس کے پاس رہے گا رہنمائی فرمائی جائے۔شکریہ
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مذکورہ میں بچہ کا حقدار ماں ہے لڑکا سات سال کی عمر تک، اور لڑکی نو سال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہے گی۔پرورش کا خرچ باپ پر ہے،۔
درمختار میں ہے : الحضانة للام إلا أن تكون فاجرة أو متزوجة بغير محرم الصغير. والحضانة أما أو غيرها أحق به أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتي، والام الجدة أحق بها حتي تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهي وقدر بتسع وبه يفتي. ( ج5 کتاب الطلاق، باب الحضانۃ صفحہ268/253) فتاویٰ ہندیہ میں ہے : نفقة الاولاد الصغار علي الأب لا يشاركه فيها أحد. ( ج1الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد صفحہ 560) ہدایہ اولین میں ہے : نفقة الاولاد الصغار علي الأب۔ ( فصل فی نفقۃ الاولاد الصغار صفحہ 444)۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند۔
*3 / ذی الحجہ 1441ھ*
*25/ جولائی 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
