*◆ تین بیٹے چار بیٹیاں؟◆*
ماں باپ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے مرنے والے نے 27 لاکھ روپے چھوڑ کر گیا اب ان کے تین بیٹے چار بیٹیاں ہیں ان کے درمیان یہ رقم تقسیم کیسے ہوگی کس کو کنتا کر کے ملے گا مددل جواب طلب ہے
*🔸بندئہ خدا🔸*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*📝الجواب بعون اللہ التواب⇩*
*_🎗بسم اللہ الرحمن الرحیم ،میت کے انتقال کے وقت اگر ان کے علاوہ کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو بعد مقدمات ارث بر صدق سائل و صحت سوال صورت مسئولہ میں کل مال کو دس حصوں میں تقسیم کر کے چھ حصے تمام بیٹوں کو اور چار حصے بیٹیوں کے دئے جائیں گے ، یعنی ان دس حصوں میں سے چھ حصے سے ہر بیٹے کو دو دو اور بیٹیوں کو چار حصوں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔_*
*_📖ستائیس لاکھ کو دس حصوں میں تقسیم کرنے سے ہر حصہ دو لاکھ ستر ہزار کا ہوتا ہے، لہذا ہر بیٹی کو دو لاکھ ستر ہزار اور ہر بیٹے کو اس کا ڈبل یعنی پانچ لاکھ چالیس ہزار کر کے دیا جائے گا۔قرآن کریم میں ہے : يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ۚ۔( سورہ نساء آیت 11)ترجمہ :اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ۔سراجی میں ہے : والعصبۃ کل من یا خذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔( صفحہ 9) ترجمہ : عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اس مال کو لے لے جس کو اصحاب فرائض نے چھوڑ دیا ہے اور تنہا ہونے کے وقت ( اگر ذوی الفروض نہ ہوں ) سارے مال کو لے لے ۔ در مختار میں ہے : و عند الانفراد یجوز جمیع المال ( کتاب الفرائض جلد 10 / ص 517 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان ) یعنی: اور ( عصبہ وہ ہے جو ) عدم اصحاب فرائض کے وقت تنہاپورا مال لے۔_*
*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*📝 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 📝*
_*حضرت مفتی محمد اختر علی واجد القادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خادم شمس العلماء دار الافتاء والقضاء، جامعہ اسلامیہ میرا روڈ ممبئی،*_
*7/ربیع الثانی 1442ھ*
*مطابق 23نومبر 2020ء*
*مـــــوبائل نمـــــبر ___(👇)*
*📲+91.9324085470*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
