السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مرحومہ نے اپنے پیچھے شوہر اورایک بیٹی چار بیٹے چھوڑے ھیں وراثت میں دس۱۰ تولہ سونا چھوڑا ھے اسکی تقسیم کیسے ھوگی جواب سے نوازی?
سائل۔ ابو سفیان
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو چھتیس (٣٦) حصے کئے جائیں گے چار بیٹے کا چوبیس ( ٢٤) حصے، یعنی ہر ایک بیٹے کو چھ چھ کر کے، ایک بیٹی کا تین (٣) حصہ، شوہر کا نو (٩) ملینگے،۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ٤سورہ نساء آیت١١)سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن. (سراجی ص ٢١)۔
لہذا 10 تولہ سونا ترکہ میں شوہر کو 2.5/ اور چار بیٹے کو
6.66/
اور ایک بیٹی کو 0.83/ ملےگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم

Masha Allah
ReplyDelete