تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

چار رکعت والی نماز میں تشہد پڑھنے کے بعد درود ابراہیم پڑھ دے نماز ہوگی یا نہیں اور نماز جنازہ کی ابتدا کب ہوئی؟؟؟؟؟

0

چار رکعت والی نماز میں تشہد پڑھنے کے بعد درود ابراہیم پڑھ دے نماز ہوگی یا نہیں اور نماز جنازہ کی ابتدا کب ہوئی؟؟؟؟؟

 

 چار رکعت والی نماز میں تشہد پڑھنے کے بعد درود ابراہیم پڑھ دے نماز ہوگی یا نہیں اور نماز جنازہ کی ابتدا کب ہوئی؟؟؟؟



السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

سوال  چار رکعت  والی نماز میں دو رکعت ینعی تشہد پڑھ کر درود ابراہیم شروع کر دیا تو نماز ہوگئی یا نہیں

2

سوال نمبر ٢  نماز جنازہ کی ابتدا کب ہوئی؟


 سائل : محمد ابوالکلام الہ آباد

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

صورت مسئولہ میں فرض و وتر و سنن رواتب کے قعدۂ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد اتنا پڑھ دیا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، یا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا تو اگر سہواً ہو سجدۂ سہو کرے، عمداً ہو تو اعادہ واجب ہے۔ 


بہار شریعت جلد اول میں ہے : قعدۂ اولیٰ میں  تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ  تو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں  کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں  قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ امام اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم  کو خواب میں  دیکھا، حضور(صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا: ’’درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں  سجدہ واجب بتایا؟‘‘ عرض کی، اس لیے کہ اس نے بُھول کر پڑھا، حضور (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے  تحسین فرمائی۔ ( حصہ 4 صفحہ 716 )۔


فتاویٰ رضویہ میں ہے : جنازہ کی ابتداء  تو یہ سیدنا آدم علیہ السلام کے دور سے ہے۔حاکم نے مستدرک، طبرانی اوربیھقی نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جنازہ پر جو آخری عمر میں تکبیرات کہیں وہ چار تھیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر چار تکبیرات کہیں، اور ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر، امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ پر چار تکبیرات کہیں، ملائکہ نے سیدنا آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں اور اسلام میں وجوبِ نماز جنازہ کا حکم مدینہ منورہ میں نازل ہوا، امام واقدی نے حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بارے میں حکیم بن حزام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ کا وصال بعثت کے دسویں سال شعبِ ابی طالب سے خروج کے بعد ہُوا اور آپ کو حجون کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خود ان کی لحد میں اترے اور اس وقت میت پر جنازہ کا حکم نہیں تھا ۔ اور امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احوال میں واقدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا وصال ہجرت کے بعد نویں مہینے کے آخر میں ہُوا،اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور بقول واقدی یہ شوال کا مہینہ تھا،بغوی نے کہا کہ ہجرت کے بعدسب سے پہلے اسی صحابی کا وصال ہوا، اور یہ پہلے صحابی کی میت تھی جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی اور اس سے جواب واضح ہوگیا۔ ( جلد 5 صفحہ 375)۔


 واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور اتردیناجپور، بنگال۔

*8/ رمضان المبارک 1441ھ* 

*2/ مئ 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad