تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

lailatul qadre me pura quraun mjid sunna kaisa hai? yani shabina ........لیلۃالقدر میں پورا قرآن مجید سننا کیسا ہے؟ یعنی شبینہ۔؟

0

lailatul qadre me pura quraun mjid sunna kaisa hai? yani shabina ........


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

میرا سوال ہے کہ سیدی اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کا رمضان المبارک میں کسی رات نفل نماز کی جماعت میں پورا قرآن کریم سننا جسکو شبینہ کہتے ہیں اس پر اعلی حضرت کا کیا قول ہے   ۔برائے کرم جواب سے مستفیض فرمائیں 

سائل : محمد ریحان رضا بڑواہ ایم پی

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

فتاویٰ رضویہ میں ہے : علماء بنظر منع کسل وملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقرر فرمائی مگر اہل قدرت ونشاط بہرعبادت کو ایک شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں، بہت اکابردین سے منقول ہے

کمابسطه المولی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقة الندیة وغیرہ فی غیرھا۔

جیسا کہ اس پرتفصیل بحث علامہ عبد الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں کی ہے۔خود امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے دو رکعت میں قرآن شریف ختم کیا کما فی الدر المختار(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔) نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے نہ کہ گناہ حرام کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوٰی میں دی ہے۔) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابردین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،درمختارمیں ہےاما العوام فلایمنعون من تکبیروالتنفل اصلا لقلة رغبتهم فی الخیرات بحر۔

عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے، بحر۔اُسی میں ہے: ولایمنع العامة من التکبیر فی الاسواق فی الایام العشروبه ناخذ بحر ومجتبی  وغیرہ۔

عوام کو ان (ذوالحج کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیاجائے، اسی پر ہماراعمل ہے،بحر، مجتبٰی وغیرہ۔ حدیقہ ندیہ میں ہے:ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلٰوۃ الرغائب بالجماعة وصلٰوۃ لیلة القدر ونحو ذلک وان صرح العلماء بالکراھة بالجماعة فیھا فلایفتی بذلک العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلک فصنف فی جوازھا جماعة من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلٰوۃ اولٰی من تنفیرھم۔

اسی قبیل سے نماز رغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگرعوام میں یہ فتوٰی نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پر لکھا بھی ہے، عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 7 صفحہ 466/465

   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ________________________

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردینا جپور،ویسٹ بنگال۔

*27/ شعبان المعظم 1441ھ*

*22/ اپریل 2020ء*

*رابطہ نمبر______________________📞*

*📲+91.8793969359*


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad