تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

لوہا اور پیتل کا زیور اور انگھوٹھی بیچنا کیسا ہے؟

0

لوہا اور پیتل کا زیور اور انگھوٹھی بیچنا کیسا ہے؟

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لوہا اور پیتل کا زیور اور انگھوٹھی بیچتا ہے اور ہندومسلمان سب خرید تے ہیں تو کیا زید کو بیچنا جائز ہے یا نہیں۔ جواب عنایت فرمائیں


سائل :محمد مجیبول الرحمن

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

صورت مسئولہ میں زید کا مسلمانوں کے پاس بیچنا مکروہ تحریمی ہے اس میں گناہ پر اِعانت ہے۔


اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ۔  (سورہ مائدہ، آیت 2)۔


فتاویٰ ہندیہ میں ہے : و يكره بيع خاتم الحديد والصفر ونحوه وبيع طين الأكل ( ج 5 کتاب الکراہیۃ ،الباب الخامس والعشرون في البیع ۔۔۔إلخ صفحہ 365)۔


فتاویٰ رضویہ میں ہے : مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔( جلد 22 صفحہ 129)


بہار شریعت جلد سوم میں ہے:  لوہے، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی جس کا پہننا مرد و عورت دونوں۔کے لیے ناجائز ہے، اس کا بیچنا مکروہ ہے۔ اسی طرح افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے، ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہوں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اِعانت ہے۔( حصہ 16 صفحہ 481)


۔ واللہ تعالیٰ اعلم_

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔

*8/ ریبع الاخر 1441ھ* 

*6/ دسمبر 2019ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad