تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Talaq dena kab mustafa hai? Talaq de doonga se talaq waqe hogi ya nahi?____ طلاق دینا کب مستحب ہے؟طلاق دے دوں گا سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

0

Talaq dena kab mustafa hai? Talaq de doonga se talaq waqe hogi ya nahi?

 

 


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

زید  نے اپنی بیوی ہندہ کو (جو کہ شوہر کی نا فرمانی کرتی ہے اور شریعت کا پابند نہیں نماز کا حکم دیا جائے تو نہیں پڑھتی اکثر جھگڑنے کی نوبت آتی ہے )

ایک دن غصہ میں بات بڑھی تو کہہ دیا کہ میں آج ہی تجھے طلاق دے دونگا

یہ سن کر بیوی نے اپنے گھر والوں سے  کہہ دیا کہ اس نے مجھے طلاق دے دیا لوگوں میں شوروغل ہوا زید نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے طلاق  نہیں دیا ہے لیکن اگر ہندہ اپنی عادت درست نہ کرے تو میں سب کے سامنے طلاق دے دونگا ۔

اس میں کچھ لوگ زبردستی کہنے لگے کہ طلاق ہوگئی ۔۔

حالانکہ میرے ناقص علم کے مطابق طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

علمائے کرام و مفتیان عظام سے عرض ہے کہ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔


سائل : محمد راز اختر اشرفی

 〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

طلاق دینا بعض صورتوں میں مستحب ہے مثلاً عورت نماز نہیں پڑھتی یا دوسرے کو ایذا دیتی ہے

فتاویٰ رضویہ میں ہے :  استفادته ایں جاکہ آوارگی زناں متحقق ست ہرسہ قول براباحت طلاق متفق آمد بلکہ چوں فسق وارتکاب چیزے از محرمات ثابت شود طلاق مستحب گردد فی الدرالمختار بل یستحب لوموذیۃ اوتارکۃ صلٰوۃ کذافی الغایۃ۔ وفی ردالمحتار الظاھران ترک الفرائض غیر الصلوۃ کالصلوۃ ۔اما واجب نیست اگر شوئے دادن نخواہد ند ہدفی الدرالمختار لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۔ مسئولہ صورت میں جب آوارگی پائی جاتی ہے تو تینوں اقوال پر طلاق کا مباح ہونا محقق ہے بلکہ عورت کا فسق اور کسی حرام فعل کا ارتکاب ثابت ہے تو طلاق مستحب ہے۔ درمختار میں ہے: بلکہ عورت اگر موذی ہے یا نماز کو ترک کرنے کی عادی ہے تو مستحب ہے غایہ میں اسی طرح ہے، اور ردالمحتار میں ہے کہ نمازکے علاوہ دیگر فرائض کا ترک بھی نماز کی طرح ہے، تاہم اس صورت میں طلاق دینا واجب نہیں ہے اگر خاوند طلاق نہ دینا چاہے تو نہ دے۔ درمختار میں ہے کہ فاسقہ عورت کا طلاق دینا خاوند پرواجب نہیں ہے۔ (جلد 13 صفحہ 322)


(1) 

صورت مسئولہ میں میں آج ہی تجھے طلاق دے دونگا سے طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ دے دونگا مستقبل ہے نہ کہ حال۔


رد المحتار میں ہے: وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل اطلقك كما في البحر ۔( ج 4 کتاب الطلاق، باب الصریح،مطلب "سن بوش" یقع الخ، صفحہ 459)۔


بحر الرائق میں ہے : وليس منه اطلقك بصيغة المضارع الا اذا غلب استعماله في الحال كما في فتح  القدير ۔ ( ج3 کتاب الطلاق، باب الطلاق، صفحہ 439)۔


لہٰذا بیوی کا کہنا کہ طلاق دے دیا ہے تو بیوی اس پر گواہ پیش کرے ۔جن لوگوں نے کہا کہ طلاق واقع ہو گئی ان لوگوں نے شریعت مطہرہ پر افتراء کیا ان لوگوں پر ضروری ہے کہ توبہ واستغفار کریں اور آئندہ بغیر مسئلہ جانے اس طرح کلام کرنے سے گریز کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور بنگال۔

*17/ شعبان المعظم 1441ھ* 

*12/ اپریل 2020ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad