عورتوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا ہے؟
_اَلسَّــلَامْ وَعَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں
کہ عورتوں کے لئے تراویح کا کیا حکم ہے کیا جماعت سے پڑھ سکتی ہیں قران وحدیث کی روشنی میں جواب عناعت فرمائیں
سائل: معراج اعظمی
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مذکورہ میں عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ فرض ہو یا نفل یا تراویح کی ہو اگر کریں تو ان میں جو امام بنے وہ ان کے وسط میں کھڑی ہو مردوں کے امام کی طرح آگے نہ کھڑی ہو فرض میں بھی یوں ہی تراویح میں بھی کہ اس میں ان کی امام آگے کھڑی ہو تو کراہت ہے
در مختار میں ہے: و يكره تحريما جماعة النساء ولو في التراويح ترجمہ : عورتوں کی جماعت مکروہ ہے خواہ تراویح ہی ہوں
( کتاب الصلاۃ باب الامامۃ صفحہ305)
ہدایہ میں ہے: ويکره للنساء أن يصلين وحدهن الجماعة فإن فعلن قامت الإمامة وسطها۔ ترجمہ: اکیلی عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی امام صف کے درمیان میں کھڑی ہوگی( باب الامامۃ)
والــلـہ تــعــالــیٰ اعــلــم
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سونا پور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال

